سندھ میں 838 اسکولوں کی تعمیرِ نو اور داخلہ مہم

تحریر: شہریار جنجوعہ

اصل چیلنج بچیوں کے داخلے، اساتذہ کی دستیابی اور تعلیم کا تسلسل یقینی بنانا ہے۔

سندھ میں سیلاب سے متاثرہ تعلیمی اداروں کی تعمیرِ نو اور نئے سیکنڈری اسکولوں کے قیام کا منصوبہ محض عمارتیں تعمیر کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ ہزاروں خاندانوں کے لیے تعلیم تک رسائی کے نئے امکانات پیدا کرنے کا موقع ہے۔ صوبائی حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے تعاون سے جاری سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ (SSEIP) کے تحت 838 اسکولوں کی تعمیر، اپ گریڈیشن اور بحالی کے ساتھ داخلہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ستمبر 2026 میں متعلقہ محکموں، ضلعی انتظامیہ اور ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز کو ہدایت کی کہ نئے اور بحال شدہ اسکول پہلے ہی دن سے فعال ہوں

منصوبے میں 116 نئے سیکنڈری اسکول جبکہ سیلاب سے متاثرہ 722 اسکولوں کی موسمیاتی اثرات سے محفوظ ڈیزائن کے تحت دوبارہ تعمیر شامل ہے۔ بحالی کا کام بالخصوص پانچ اضلاع میں جاری ہے۔ حکومتی اندازوں کے مطابق ان اسکولوں سے تقریباً ڈھائی لاکھ بچوں کو تعلیمی مواقع میسر آئیں گے، جن میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے 2 لاکھ 21 ہزار سے زائد بچے اور اپ گریڈ کیے گئے سیکنڈری اسکولوں میں 28 ہزار سے زیادہ طلبہ شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت دسمبر 2026 تک 257 اسکول مکمل کرنے اور جون 2027 تک مجموعی تعداد 611 تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ باقی اسکولوں کی تکمیل 2027 کے اختتام تک متوقع ہے۔ یہ اہداف تعمیراتی پیش رفت کی اہمیت واضح کرتے ہیں، لیکن اسکولوں کی تکمیل کو تعلیمی کامیابی کا واحد پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

اسکولوں کی تعمیرِ نو پہلا قدم ہے؛ اصل کامیابی تب ہوگی جب ہر بچے کو معیاری تعلیم اور ہر بچی کو اسکول تک محفوظ رسائی میسر آئے۔

سندھ کے متعدد دیہی اور پسماندہ علاقوں میں بچوں کو گھر کے قریب سیکنڈری تعلیم میسر نہ ہونے کے باعث طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں یا وہ پرائمری تعلیم کے بعد اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ لڑکیوں کے لیے یہ مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں، جہاں محفوظ آمدورفت، مناسب سہولتوں اور سماجی رویوں کے مسائل تعلیم کے تسلسل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے نئے اسکولوں میں سائنس اور کمپیوٹر لیبارٹریوں، ڈیجیٹل لائبریریوں، شمسی توانائی کے نظام اور لڑکیوں کے لیے کامن رومز جیسی سہولتوں کی فراہمی اہم ہے۔ تاہم ان سہولتوں کے مؤثر استعمال کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ، تدریسی مواد، بجلی اور آلات کی دیکھ بھال کا مستقل انتظام بھی ضروری ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے داخلوں، طلبہ کو اسکول میں برقرار رکھنے اور تعلیمی نتائج کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کرنے اور ہر اسکول کی تکمیل سے پہلے اس کے عملی آغاز کا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس حکمتِ عملی میں مقامی نمائندوں، والدین، کمیونٹی رہنماؤں اور تعلیمی اداروں کی شمولیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے

داخلہ مہم کی کامیابی کے لیے صرف اشتہارات یا اسکولوں کے باہر بینرز لگانا کافی نہیں ہوگا۔ ہر ضلع میں ایسے بچوں کی نشاندہی ضروری ہے جو کبھی اسکول نہیں گئے یا غربت، نقل مکانی اور دیگر مسائل کے باعث تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے گھر گھر رابطہ، والدین کی رہنمائی اور مقامی سطح پر داخلوں کی نگرانی مؤثر اقدامات ثابت ہوسکتے ہیں۔ ٹھٹھہ میں ستمبر 2026 کے دوران پانچ اپ گریڈ شدہ سیکنڈری اسکولوں میں چلائی گئی آزمائشی مہم کے دوران نو دن میں 702 بچوں کے داخلے رپورٹ ہوئے، جن میں 409 لڑکیاں شامل تھیں۔ ان میں 102 ایسے بچے بھی تھے جو اسکول سے باہر تھے یا تعلیم چھوڑ چکے تھے۔ اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی برادری کو متحرک کرکے بچوں کو دوبارہ تعلیم کی طرف لانے کے امکانات پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی تعمیرِ نو میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ مضبوط عمارتیں مستقبل میں سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے نقصانات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن ان کی دیکھ بھال، نکاسی آب اور حفاظتی انتظامات بھی ضروری ہیں۔

838 اسکولوں کی کامیابی عمارتوں کی تعداد سے نہیں بلکہ داخلوں، حاضری، تعلیم کے تسلسل اور بچوں کے سیکھنے کے نتائج سے ناپی جانی چاہیے۔

اسی طرح حکومت کو ہر اسکول کے لیے اساتذہ کی تعیناتی، طلبہ کی حاضری، داخلوں، تعلیمی نتائج اور بنیادی سہولتوں کی دستیابی سے متعلق معلومات باقاعدگی سے مرتب کرنی چاہییں۔ ان اعدادوشمار کی عوامی دستیابی سے منصوبوں کی پیش رفت جانچنے اور کمزور اداروں کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سندھ میں 838 اسکولوں کا منصوبہ تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کا ایک اہم موقع ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تعمیراتی اہداف کو حقیقی تعلیمی نتائج میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے۔ اگر ہر اسکول میں اساتذہ، مناسب سہولتیں اور طلبہ کی مسلسل حاضری یقینی بنائی جائے تو یہ سرمایہ کاری بچوں کے مستقبل اور مقامی برادریوں کی ترقی میں دیرپا کردار ادا کرسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں