لاہور: لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا، جہاں 29 اکتوبر کو صبح 10 سے 11 بجے کے دوران ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 419 ریکارڈ کیا گیا۔ فضائی آلودگی کی بلند سطح کے باعث پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی صورتحال تشویشناک رہی، جبکہ صوبائی حکومت نے اسموگ کے سیزن سے قبل آلودگی کے اسباب کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں۔
IQAir کی لائیو عالمی درجہ بندی کے مطابق لاہور کے بعد مصر کا دارالحکومت قاہرہ 274 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے اور نئی دہلی 220 کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا، جبکہ کراچی 165 اے کیو آئی کے ساتھ آٹھویں نمبر پر تھا۔
دوسری جانب پنجاب حکومت کے ایئر کوالٹی مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کے مطابق صوبے میں قصور 348 اے کیو آئی کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ لاہور 324، فیصل آباد 290، کوٹ ادو 269 اور ڈیرہ غازی خان 267 اے کیو آئی کے ساتھ آلودہ ترین شہروں میں شامل رہے۔
اسی طرح ننکانہ صاحب میں اے کیو آئی 261، حافظ آباد میں 250، ساہیوال میں 210، شیخوپورہ میں 205، جھنگ میں 203 اور راجن پور میں 201 ریکارڈ کیا گیا۔ ملتان اور گوجرانوالہ میں یہ شرح 194، بھکر میں 186 اور وہاڑی میں 181 رہی۔
رپورٹ کے مطابق دونوں مانیٹرنگ پلیٹ فارمز کی ریڈنگ میں فرق ان کے نگرانی کے مقامات اور رپورٹنگ کے اوقات کی وجہ سے تھا، تاہم دونوں نے لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں فضائی آلودگی کی بلند سطح کی نشاندہی کی۔
فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے پنجاب حکومت نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، اینٹوں کے بھٹوں، صنعتی یونٹس، پلاسٹک جلانے اور تعمیراتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گردوغبار کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق اسموگ سے متعلق خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب محکمہ تحفظ ماحولیات نے 28 ستمبر سے 27 اکتوبر تک ایک ماہ کی مہم کے دوران 197 غیر معیاری اینٹوں کے بھٹے مسمار، 163 یونٹس سیل اور 162 مقدمات درج کیے۔
محکمہ تحفظ ماحولیات کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ نیئر شیخ نے کہا کہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ڈیٹا کی بنیاد پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق محکمہ تحفظ ماحولیات کی ٹیموں نے اینٹوں کے بھٹوں کے 11 ہزار 580 معائنے کیے، 314 اسموگ نوٹس جاری کیے اور 4 کروڑ 7 لاکھ روپے جرمانے عائد کیے۔ صنعتی مقامات کے 6 ہزار 650 معائنے کیے گئے، جن کے دوران 22 غیر معیاری یونٹس مسمار، 333 نوٹس جاری، 191 مقامات سیل اور 15 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 2 کروڑ 80 لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔
پلاسٹک جلانے کے خلاف کارروائیوں کے دوران 6 ہزار 64 معائنے کیے گئے، 678 نوٹس جاری، 152 مقامات سیل اور 45 ہزار 100 کلوگرام پلاسٹک ضبط کیا گیا، جبکہ تقریباً 20 لاکھ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
صنعتی یونٹس میں دھوئیں کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے سکشن ہڈز کی تنصیب یقینی بنانے کی مہم کے تحت 4 ہزار 204 مقامات کا معائنہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق 1 ہزار 863 یونٹس میں یہ آلات نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ خلاف ورزیوں پر 1 ہزار 388 نوٹس جاری اور 333 مقامات سیل کیے گئے۔ اس مد میں 20 لاکھ 4 ہزار 500 روپے جرمانہ بھی وصول کیا گیا۔
تعمیراتی گردوغبار کی روک تھام کے لیے محکمہ تحفظ ماحولیات کے اہلکاروں نے 397 یونین کونسلوں کا دورہ کیا، 181 نوٹس جاری کیے، 20 مقامات سیل کیے اور 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ گردوغبار دبانے کے لیے تعمیراتی مقامات اور کھلی سطحوں پر 49 مقامات پر مسٹ اسپرنکلرز بھی نصب کیے گئے۔
پانی کو آلودہ کرنے والی سرگرمیوں کے خلاف 56 معائنے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 29 نوٹس جاری اور دو یونٹس سیل کیے گئے۔
زرعی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں کی روک تھام کے لیے پنجاب حکومت نے بڑے زرعی علاقوں میں 67 کوئیک رسپانس یونٹس بھی تعینات کیے ہیں، جبکہ لاہور کے مختلف مقامات پر اینٹی اسموگ گنز نصب کی گئی ہیں۔
ڈی جی محکمہ تحفظ ماحولیات عبداللہ نیئر شیخ کے مطابق اینٹی اسموگ گنز کی تنصیب کا فیصلہ زمینی صورتحال، اے کیو آئی، ذرات کی مقدار اور ہوا کے رخ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آلات معاون اقدامات ہیں اور آلودگی کے اصل ذرائع پر قابو پانے کا متبادل نہیں۔
ادھر لاہور پولیس کے مطابق ماحولیاتی قوانین اور اسموگ سے متعلق ضابطہ کار کی خلاف ورزیوں پر 65 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ مختلف خلاف ورزیوں کے الزام میں 37 مقدمات بھی درج کیے گئے۔