لاہور:قیمتی وقف اراضی کی مبینہ غیر قانونی نیلامی اوراستعمال کی تبدیلی،سابق َسیکریٹری اوقاف سمیت 10 افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کا حکم
محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری جنوبی پنجاب فواد ہاشم ربانی کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔
لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور میں فیروزپور روڈ پر صوفی آباد کے مقام پر قیمتی وقف اراضی کی مبینہ غیر قانونی نیلامی اور غیر مجاز طور پر استعمال تبدیل کرنے کے معاملے پر سابق سیکریٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری سمیت 10 افسران کے خلاف پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی (پیڈا) ایکٹ 2006 کے تحت باقاعدہ انکوائری اور محکمانہ کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری جنوبی پنجاب فواد ہاشم ربانی کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے، جنہیں 60 روز میں تحقیقات مکمل کرکے نتائج اور سفارشات مجاز اتھارٹی کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یہ کارروائی وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی) کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں منظور کی ہے۔ معاملہ 15 کنال 15 مرلہ وقف اراضی سے متعلق ہے، جہاں 2023 کی منظور شدہ پالیسی کی خلاف ورزی، اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، نیلامی اور لیز کے عمل میں بے ضابطگیوں، زمین کے غیر مجاز استعمال اور قومی خزانے کو مالی نقصان پہنچانے کے الزامات سامنے آئے تھے۔
سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق سابق سیکریٹری ڈاکٹر طاہر رضا بخاری پر الزام ہے کہ انہوں نے متعلقہ قانونی افسر کے تحریری اعتراضات کے باوجود مقررہ 15 کنال کی حد سے زیادہ مزید 15 مرلہ اراضی کی نیلامی کی منظوری دی۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ 8 جنوری 2025 کو بغیر نئی نیلامی اور شفاف مسابقتی عمل کے مارکی کے لیے منظور شدہ تجارتی استعمال کو تبدیل کرکے وہاں پیٹرول پمپ اور فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔
دیگر الزامات میں اعتراضات اٹھانے پر قائم مقام ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹ-II کو معطل کرنا، قانونی لیز معاہدے کے بغیر قبضہ منتقل کرنا اور کرایے میں سالانہ 10 فیصد اضافے کی معاہداتی شرط ختم کرنا شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن میں سابق ڈائریکٹر اسٹیٹ وسیم عباس، سابق ایڈمنسٹریٹر اوقاف لاہور زون ایسٹ اشفاق دیال اور سابق منیجر اوقاف سرکل نمبر 6 حافظ مؤثر رحمان کے نام بھی شامل ہیں۔ ان پر مبینہ طور پر غیر قانونی نیلامی کی نگرانی اور معاونت، اضافی اراضی کی الاٹمنٹ کی توثیق، قانونی معاہدے کے بغیر قبضہ منتقل کرنے، پیٹرول پمپ کے لیے غیر مجاز انڈرٹیکنگ حاصل کرنے اور سالانہ کرایہ بڑھانے کی مقررہ رقم وصول نہ کرنے کے الزامات ہیں۔
اوقاف ہیڈ آفس کمیٹی کے پانچ ارکان، ڈائریکٹر پروجیکٹس رفیق نور، ڈائریکٹر فنانس طاہر احمد، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن اسف اقبال، ڈپٹی ڈائریکٹر اوقاف ایاز احمد حبیب اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر مذہبی امور اسرار احمد کو بھی منظور شدہ پالیسی کے برخلاف اضافی 15 مرلہ اراضی کی نیلامی پر کارروائی اور منظوری دینے کے معاملے میں نامزد کیا گیا ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسٹیٹ/رجسٹریشن قاضی عبدالرزاق پر کمیٹی اجلاسوں کی کارروائی میں گمراہ کن معلومات درج کرنے، مناسب سائٹ پلان اور ضروری تیاری کے بغیر پیٹرول پمپ اور فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ کی منظوری آگے بڑھانے سمیت دیگر طریقہ کار کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔
تمام نامزد افسران کو نوٹیفکیشن موصول ہونے کے سات روز کے اندر اپنا تحریری دفاع جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔ پنجاب اوقاف آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر اسٹیٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن کو انکوائری میں محکمانہ نمائندے مقرر کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کو اس سے قبل بھی سرکاری طور پر مختص خطیب کی رہائش گاہ مبینہ طور پر ایک نجی شخص کو غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے اور بعد ازاں سرکاری جائیداد کے عوض اسے 81 لاکھ 62 ہزار روپے معاوضہ ادا کرنے کے معاملے میں انکوائری کا سامنا ہے۔ سرکاری فنڈز میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے علاوہ ان سے تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ روپے کی ریکوری کی سفارش بھی کی جا چکی ہے۔