کسان اتحاد کا گندم کی امدادی قیمت 5 ہزار روپے فی 40 کلو مقرر کرنے کا مطالبہ

پالیسی کا اعلان نہ ہونے پر آئندہ سیزن میں گندم کی کاشت نہ کرنے کی وارننگ

لاہور: پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر نے حکومت سے گندم کی امدادی قیمت 5 ہزار روپے فی 40 کلوگرام مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت فصل پالیسی کا اعلان نہ کیا تو کسان آئندہ سیزن میں گندم کی کاشت سے گریز کرسکتے ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد کھوکھر نے کہا کہ گندم کی بوائی کا موسم قریب آچکا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اب تک گندم کی فصل کے حوالے سے پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کسان پیداواری لاگت پوری نہ ہونے کے باعث متوازن کھاد کے استعمال کے متحمل نہیں رہے۔ ان کے مطابق ڈی اے پی کھاد کی کھپت 23 لاکھ 90 ہزار ٹن سے کم ہو کر 12 لاکھ 50 ہزار ٹن رہ گئی ہے۔

خالد کھوکھر نے کہا کہ اگر کسانوں کو گندم کی عالمی منڈی کے مطابق قیمت دی جائے تو وہ ریکارڈ پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں فصلوں کی بہتر قیمتوں کے نتیجے میں پیداوار میں بھی اضافہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ گنے کی کاشت میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس کا رقبہ بڑھ کر 24 لاکھ 54 ہزار ایکڑ ہوگیا ہے، جبکہ رواں سیزن میں چینی کی پیداوار میں 25 سے 30 فیصد اضافے کی توقع ہے۔

کسان اتحاد کے صدر نے حکومت پر زور دیا کہ نومبر تک ملکی ضروریات کے لیے چینی کا وافر ذخیرہ برقرار رکھا جائے اور اضافی چینی برآمد کی جائے تاکہ کاشتکاروں کو نقصان سے بچایا جاسکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اضافی چینی برآمد نہ ہونے کی صورت میں گنے کی قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جس سے کسانوں کو نقصان ہوگا اور اس کے اثرات آئندہ فصلوں پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

خالد کھوکھر نے کہا کہ کسان حکومت سے سبسڈی نہیں بلکہ اپنی پیداوار کی مناسب قیمت چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی لاگت اور مناسب منافع نہ ملنے کے باعث نوجوان نسل زراعت کو بطور پیشہ اختیار کرنے سے دور ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت زرعی شعبے میں ڈی ریگولیشن چاہتی ہے تو اسے پورے شعبے کو یکساں طور پر ڈی ریگولیٹ کرنا چاہیے، نہ کہ صرف گنے کے شعبے میں منتخب بنیادوں پر۔ انہوں نے زور دیا کہ غذائی تحفظ حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے۔

کسان رہنما محمود الحسن بخاری نے بھی حکومت کی جانب سے فیصلوں میں تاخیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس فصلوں اور ذخائر سے متعلق اعداد و شمار موجود ہیں، اس کے باوجود فیصلوں میں تاخیر کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں اضافی چینی کی برآمد میں تاخیر کا بوجھ بالآخر کسانوں پر پڑا اور انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گندم کی پالیسی فوری طور پر جاری نہ کی گئی تو کسان آئندہ سیزن میں گندم کی کاشت نہ کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں