ایف آئی اے میں محکمانہ کارروائی، 10 ملازمین ملازمت سے برطرف، 8 تنزلی کا شکار
اسلام آباد زون میں مجموعی طور پر 76 سزائیں، 58 اہلکاروں کو مختلف محکمانہ سزائیں دی گئیں
اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسلام آباد زون نے محکمانہ احتساب اور نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کرتے ہوئے 10 ملازمین کو ملازمت سے برطرف، جبکہ 8 کو عہدوں میں تنزلی کی سزا دے دی۔
ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائی اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر سید شہزاد ندیم بخاری کی زیر صدارت منعقدہ اردلی روم میں کی گئی، جس میں افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی، محکمانہ خلاف ورزیوں، غیر ذمہ دارانہ و غیر پیشہ ورانہ رویے اور عوامی شکایات کا جائزہ لیا گیا۔
متعلقہ افسران اور اہلکاروں کو ذاتی طور پر سنا گیا اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا۔ ریکارڈ اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت سزائیں دی گئیں۔
ایف آئی اے کے مطابق ملازمت سے برطرف کیے جانے والوں میں سب انسپکٹر حسن علی، یو ڈی سی محمد سبحان، ہیڈ کانسٹیبلز طاہر محمود، میلون مسیح اور محمد بلال، کانسٹیبلز طاہر صفیر، محمد احمد رضا، عاقب محمود اور طاہر محمود جبکہ اے ایس آئی مبشر کاظمیشامل ہیں۔
عہدے میں تنزلی پانے والوں میں اے ایس آئی محمد نیاز میر اور محمد وسیم اقبال کو ہیڈ کانسٹیبل، یو ڈی سی شیراز منظور کو ایل ڈی سی، جبکہ ہیڈ کانسٹیبلز رضوان علی خان، مسعود احمد، مدثر علی، الماس الیاس اور قاسم محمود کو کانسٹیبل کے عہدے پر تنزلی دی گئی۔
دیگر 58 محکمانہ سزاؤں میں 19 اہلکاروں کی تین سال، 27 کی دو سال اور 5 کی ایک سال کے لیے ترقی روکنے کی سزا شامل ہے۔ ایک اہلکار کے پے اسکیل میں تین درجے کمی کی گئی جبکہ 6 اہلکاروں کو سرزنش کی سزا دی گئی۔
محکمانہ احتساب کے ساتھ ساتھ اچھی کارکردگی کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ ڈائریکٹر اسلام آباد زون نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 3 افسران کو تعریفی اسناد کلاس-II (CC-II) سے نوازا۔
اس موقع پر سید شہزاد ندیم بخاری نے کہا کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی، بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر ذمہ دارانہ و غیر پیشہ ورانہ رویے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی افسر یا اہلکار کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی جو ان سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھی کارکردگی کو بھرپور سراہا جائے گا، تاہم نظم و ضبط، دیانت داری اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر سمجھوتہ کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔