انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کا سی ڈی اے کو پانی و سیوریج کے تین منصوبوں میں تکنیکی تعاون

اسلام آباد: عالمی بینک گروپ کی رکن انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) وفاقی دارالحکومت میں پانی اور سیوریج کے تین منصوبوں کے لیے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔

اس ضمن میں جمعہ کے روز سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں سی ڈی اے اور آئی ایف سی کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے کی تقریب میں سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا، چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، ممبر پلاننگ اینڈ ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، آئی ایف سی کے ریجنل ڈائریکٹر اور سی ڈی اے اسلام آباد واٹر سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

سی ڈی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، معاہدے کے تحت آئی ایف سی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت اسلام آباد واٹر ایجنسی کے مختلف منصوبوں کے لیے تکنیکی معاونت اور ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروسز فراہم کرے گی۔ ان خدمات کے ذریعے اسلام آباد میں پانی اور سیوریج سے متعلق تین منصوبوں کو پی پی پی ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے وفاقی دارالحکومت میں پانی کی فراہمی اور سیوریج نظام سے متعلق مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ منصوبوں کے اہم نکات میں صاف پانی کی فراہمی میں بہتری، واٹر میٹرز کی تنصیب، نان ریونیو واٹر میں کمی، پانی کے پمپس کو توانائی کے لحاظ سے مؤثر بنانا، سیوریج لائنوں کی مرمت و بحالی اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی بہتری شامل ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق، ان منصوبوں کی تکمیل سے ادارے کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوگا، جسے اسلام آباد میں پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔

اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ پی پی پی کے تحت منصوبوں کی تکمیل سے نگرانی کے نظام میں بہتری آئے گی اور پانی کے ضیاع پر قابو پایا جا سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسلام آباد واٹر کی تمام تنصیبات اور پمپس کی مانیٹرنگ کی جائے گی، جس سے پانی کی فراہمی بہتر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو صاف پانی اور مؤثر سیوریج نظام کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

اجلاس میں آئی ایف سی کی تکنیکی مہارت، تجربے اور صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ سی ڈی اے کے مطابق، پی پی پی کے تحت ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے سی ڈی اے بورڈ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بورڈ سے اصولی منظوری پہلے ہی حاصل کی جا چکی ہے۔

دوسری جانب، ایک عہدیدار نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی اور واٹر میٹرز کی تنصیب خوش آئند قدم ہے، تاہم نئے آبی وسائل کی تلاش پر بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خانپور ڈیم کے بعد 1990 کی دہائی سے کوئی نیا پانی کا ذریعہ تلاش نہیں کیا گیا، جبکہ اسلام آباد کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

فی الوقت اسلام آباد کی یومیہ پانی کی ضرورت 250 ملین گیلن سے زائد ہے، جبکہ سی ڈی اے اپنے تین ذرائع—سملی اور خانپور ڈیمز اور ٹیوب ویلز—کے ذریعے تقریباً 70 ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ٹی چوک پر علامہ اقبال فلائی اوور کے افتتاح کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ اسلام آباد میں پانی کی قلت کے مسئلے کو حل کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں