شاہین چوک انڈر پاس کل ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا، وزیر داخلہ
اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ شاہین چوک انڈر پاس 31 دسمبر کو ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ انڈر پاس کی تعمیر خیابانِ اقبال پر نائن ایونیو کے جنکشن پر کی گئی ہے، جہاں بالخصوص مصروف اوقات میں شدید ٹریفک جام معمول بن چکا تھا۔
وزیر داخلہ نے منصوبے کے دورے کے موقع پر کہا کہ شاہین چوک انڈر پاس کی تکمیل سے علاقے میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل مستقل طور پر حل ہو جائیں گے اور شہریوں کو آمدورفت میں نمایاں سہولت ملے گی۔ اس انڈر پاس کے ذریعے خیابانِ اقبال، جو عام طور پر مارگلہ روڈ کے نام سے جانی جاتی ہے، پر ٹریفک کی روانی بلا تعطل ممکن ہو سکے گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف بدھ کے روز انڈر پاس کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔ دورے کے دوران وزیر داخلہ نے انڈر پاس کے اطراف باغبانی اور لینڈ اسکیپنگ کے کام کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو مزید پودے لگانے کی ہدایت کی۔
اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے نے منصوبے پر بریفنگ دی، جبکہ آئی جی اسلام آباد، ممبر انجینئرنگ سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ شاہین چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد وزیراعظم شہباز شریف نے 24 اکتوبر کو رکھا تھا اور منصوبے کو 150 دن میں مکمل کیا جانا تھا، تاہم سی ڈی اے نے اسے تیز رفتاری سے صرف دو ماہ میں مکمل کر لیا۔ منصوبے کی ابتدائی لاگت 1.3 ارب روپے تھی، تاہم کام کے دائرہ کار میں توسیع کے باعث لاگت میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا۔
منصوبے کے ڈیزائن میں بھی تبدیلی کی گئی، جس کے تحت انڈر پاس کے بیرل کی لمبائی 56 میٹر سے بڑھا کر 85 میٹر کر دی گئی، جبکہ چند دیگر معمولی تبدیلیاں بھی کی گئیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال کے دوران سی ڈی اے نے اسلام آباد میں کئی بڑے سڑکوں کے منصوبے مکمل کیے، جن میں ایف-8 انٹرچینج، سرینا انٹرچینج، مری روڈ انڈر پاس اور ٹی چوک فلائی اوور شامل ہیں، جبکہ فیض آباد انٹرچینج کے لوپس کو بھی کشادہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایکسپریس وے کی سروس روڈز کی توسیع، مری روڈ کے کشمیر چوک پر انڈر پاس کی تعمیر اور مارگلہ ایونیو کو پشاور موٹر وے تک توسیع دینے جیسے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔
ممبر انجینئرنگ سی ڈی اے سید نفاست رضا نے کہا کہ اسلام آباد کی تاریخ میں ایک سال کے دوران اتنے بڑے منصوبوں کی تکمیل ایک اہم کامیابی ہے، اور یہ تمام منصوبے کم سے کم وقت میں معیار پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر مکمل کیے گئے ہیں۔