راولپنڈی میں سکیورٹی ہائی الرٹ، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر 31 افراد گرفتار

راولپنڈی: سرحدی اور مجموعی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر راولپنڈی سمیت صوبہ پنجاب بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سرچ اور کومبنگ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر 31 افراد کو گرفتار کر کے مقدمات درج کر لیے گئے۔

پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی سخت کرنے کے لیے پولیس لائنز ہیڈکوارٹر اور دیگر دفاتر میں داخلے کے وقت افسران اور اہلکاروں کو اپنے محکمانہ کارڈ نمایاں طور پر آویزاں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ شاپنگ مالز، بازاروں، تعلیمی اداروں اور حساس سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

سی پی او راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی نے ایس ایس پی آپریشنز اور ڈویژنل ایس پیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فیلڈ میں سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو بریف کریں اور انتظامات کا خود جائزہ لیں۔ محکمہ پولیس کے ملازمین کو پولیس لائنز اور دفاتر میں داخلے کے وقت یونیفارم پر محکمانہ کارڈ نمایاں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مغربی سرحدی صورتحال کے تناظر میں پنجاب بھر میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا جبکہ جمعہ کے اجتماعات کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ انسپکٹر جنرل پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس میں آر پی او اور سی پی او راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران احمر، سی سی پی او لاہور، ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سمیت تمام آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز نے شرکت کی۔

آئی جی پنجاب نے صوبہ بھر میں، خصوصاً راولپنڈی اور لاہور میں سکیورٹی مزید سخت کرنے اور مساجد، عبادت گاہوں اور اہم تنصیبات کے انتظامات کا خود جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ بین الصوبائی چیک پوسٹس، تھانوں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عمارتوں کی سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے۔ چینی ماہرین اور دیگر غیر ملکی شہریوں کی حفاظت بڑھانے اور غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں، بالخصوص افغان باشندوں کے خلاف مہم تیز کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔

سیف سٹیز اتھارٹی کو حساس مقامات، مارکیٹوں اور کاروباری مراکز کی کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی یقینی بنانے اور حکومت پنجاب کی جانب سے ڈرون کے استعمال پر دفعہ 144 کے نفاذ پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔

آئی جی کی ہدایات کے بعد راولپنڈی پولیس نے دھمیال، جاتلی، سول لائنز، وارث خان، نیو ٹاؤن اور روات تھانوں کی حدود میں سرچ اور کومبنگ آپریشن کیے۔ کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران 31 افراد کو حراست میں لے کر مقدمات درج کیے گئے۔

سی پی او سید خالد محمود ہمدانی نے کہا کہ کرایہ داروں کا اندراج نہ کرنا قابل سزا جرم ہے اور قانون پر عملدرآمد کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں۔ رواں سال اب تک کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر 606 مقدمات درج اور 675 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ امن و امان کے قیام میں معاونت کے لیے کرایہ داروں کا اندراج یقینی بنائیں۔

جمعہ کی نماز کے دوران بھی سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے جبکہ ایس ایس پی آپریشنز ملک طارق محبوب، ڈویژنل ایس پیز، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز فیلڈ میں موجود رہے۔ پولیس لائنز، آر پی او اور سی پی او دفاتر سمیت تمام تنصیبات کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ جاری مراسلے کے مطابق بغیر محکمانہ کارڈ کے کسی اہلکار کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی اور ایسے افراد کی تصدیق مہمانوں کی طرح استقبالیہ پر کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں