شاہدرہ ڈیم کا ڈیزائن آخری مراحل میں، اسلام آباد میں پانی کی قلت کم کرنے کی کوشش

اسلام آباد (نمائندہ مقامی حکومت) وفاقی دارالحکومت میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے مجوزہ شاہدرہ ڈیم کا ڈیزائن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ منصوبے پر جلد کام شروع کرنے کی تیاری جاری ہے۔

سی ڈی اے کے چیئرمین محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت پانی سے متعلق اجلاس میں منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ ترجمان سی ڈی اے شاہد کیانی کے مطابق شاہدرہ ڈیم کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہو چکی ہے جبکہ ڈیزائن کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق شاہدرہ کے مقام پر تعمیر کیے جانے والے اس ڈیم میں روزانہ 10 ملین گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی، جس سے اسلام آباد کے شہریوں کو پانی کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔ ڈیزائن کی تکمیل کے بعد منصوبہ پی سی-ون کی منظوری کے لیے سی ڈی اے کی ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کو پیش کیا جائے گا، جس کے بعد تعمیراتی کام کے لیے ٹینڈر جاری کیے جائیں گے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کے لیے 30 ایکڑ سے زائد اراضی حاصل کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ڈوٹارہ ڈیم منصوبے پر بھی غور کیا گیا، جس کی مجوزہ گنجائش 72 ملین گیلن یومیہ ہے اور یہ راولپنڈی اور اسلام آباد دونوں کے لیے پانی فراہم کرے گا۔ اس منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی مئی 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت سی ڈی اے تین بڑے ذرائع سے تقریباً 70 ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کر رہا ہے، جبکہ شہر کی مجموعی ضرورت 220 ملین گیلن یومیہ ہے، جس کے باعث شدید قلت کا سامنا ہے۔ دیہی علاقوں کے مکین زیادہ تر بورنگ اور دیگر محدود ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔

اجلاس میں پانی کے نظام کی بہتری کے لیے مختلف منصوبوں، بشمول واٹر ورکس کی اپ گریڈیشن، پائپ لائنز کی بہتری اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ جدید نگرانی کے لیے اسکادا سسٹم اور فلو میٹرز کی تنصیب جاری ہے۔

مزید بتایا گیا کہ زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے لیے شہر میں تقریباً 100 ریچارج ویلز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ 20 واٹر اسٹوریج ٹینکس بھی مختلف مقامات پر بنائے جائیں گے۔ سی ڈی اے بلڈنگ بائی لاز کے تحت چھتوں پر بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کا نظام لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔

اجلاس میں کورنگ نالہ پر تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام کا بھی جائزہ لیا گیا، تاہم یہ منصوبہ گزشتہ پانچ برس سے تاخیر کا شکار ہے۔ سی ڈی اے ایک بار پھر اس منصوبے کے لیے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ 11 ویٹ لینڈز کے قیام کے منصوبے کی منظوری دی جا چکی ہے اور مختلف مقامات کے انتخاب کا عمل جاری ہے، جبکہ دو ویٹ لینڈز پر کام بھی شروع ہو چکا ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائنز مقرر کی جائیں تاکہ شہریوں کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں