سی ڈی اے کے اسلام آباد میں تین بڑے سڑک منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (نمائندہ مقامی حکومت) وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک مسائل کے حل اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے تین بڑے سڑک منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں اسلام آباد ایکسپریس وے کی سروس روڈ کی بحالی، کشمیر چوک انڈر پاس کی تعمیر اور 11ویں ایونیو کی ڈویلپمنٹ شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق سی ڈی اے نے سروس روڈ اور کشمیر چوک منصوبوں کے لیے کنسلٹنٹس سے بولیاں طلب کر لی ہیں، جبکہ 11ویں ایونیو کے لیے بھی کنسلٹنٹ کے انتخاب کا عمل جاری ہے۔ منتخب کنسلٹنٹس منصوبوں کے ڈیزائن اور پی سی-ون تیار کریں گے، جس کے بعد تعمیراتی ٹھیکوں کے لیے مالیاتی بولیاں طلب کی جائیں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ کنسلٹنٹس کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے چھ سے آٹھ ہفتے درکار ہوں گے، جس کے بعد دو ماہ کے اندر ان منصوبوں پر عملی کام شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

اسلام آباد ایکسپریس وے کے ساتھ تقریباً 9 سے 9.5 کلومیٹر طویل سروس روڈ (ایسٹ) اس وقت خستہ حالی کا شکار ہے اور جگہ جگہ گڑھوں کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ سڑک فیض آباد سے گلبرگ گرین تک بحال کی جائے گی۔

اسی طرح کشمیر چوک، جو ڈھوکری چوک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے انڈر پاس تعمیر کیا جائے گا، جبکہ 11ویں ایونیو جی-11 اور جی-12 سیکٹرز کے درمیان ایک اہم مرکزی شاہراہ کے طور پر تعمیر کی جائے گی۔

یہ منصوبے سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں چیئرمین محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں زیر غور آئے، جس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اتاترک ایونیو کی توسیع، خوبصورتی اور لینڈ اسکیپنگ پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ سڑک پر مستقل بنیادوں پر خوبصورت لائٹس اور ڈیجیٹل بورڈز نصب کیے جائیں اور سائیکل ٹریک بھی بنایا جائے۔

انہوں نے تمام ترقیاتی منصوبوں کے لیے ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنا ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں ماڈل قبرستان پنڈوریاں کے منصوبے پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا، جس کا ڈیزائن مکمل ہو چکا ہے۔ اس منصوبے میں باؤنڈری وال، پارکنگ، مسجد، جنازہ گاہ اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی۔

چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں پر کام کے آغاز کے لیے واضح ٹائم لائن دی جائے اور کسی بھی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں