کراچی: سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی آئینی بینچ نے جمعے کو کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کی جانب سے دائر اس درخواست پر نوٹس جاری کردیے جس میں ایک ڈویژن بینچ کے اُس فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی گئی ہے، جس نے بھورے ریچھ رانو کی منتقلی سے متعلق درخواست کے دائرہ کار کو بڑھا کر صوبے بھر میں چڑیا گھروں کے وجود اور جانوروں کو پنجرے میں رکھنے کے پورے تصور کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔
اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ کے ایک معمول کے ڈویژن بینچ نے ایک جانوروں کے حقوق کے کارکن کی درخواست کی سماعت کے دوران نہ صرف چڑیا گھروں کے تصور کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تھا بلکہ پورے صوبے میں چڑیا گھروں کے بتدریج خاتمے اور نایاب جانوروں کو ان کے قدرتی ماحول میں منتقل کرنے کے حوالے سے تجاویز بھی طلب کی تھیں۔
27ویں ترمیم اور گورنر کے جاری کردہ آرڈیننس کے بعد آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر تمام درخواستیں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچوں کو منتقل کردی گئی ہیں۔
جمعے کو معاملہ سماعت کے لیے پیش ہونے پر جسٹس عدنان اقبال چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ نے متعلقہ فریقین کو 18 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیے۔
درخواست میں کے ایم سی نے مؤقف اختیار کیا کہ زیر سماعت پٹیشن کا موضوع صرف ریچھ رانو کی منتقلی تک محدود تھا، اور پچھلے ماہ عدالت کے حکم کے مطابق رانو کو 5 نومبر کو کامیابی سے منتقل کردیا گیا تھا۔ کے ایم سی کا کہنا تھا کہ درخواست اپنا مقصد پورا کر چکی تھی اور اسے اسی وقت نمٹا دیا جانا چاہیے تھا، مگر ڈویژن بینچ نے اپنے فیصلے میں اس کا دائرہ بڑھا کر ملک بھر کے چڑیا گھروں میں موجود تمام جانوروں کی فلاح و بہبود کو شامل کرلیا۔
کے ایم سی نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈویژن بینچ نے درخواست کے دائرہ کار میں غیر قانونی توسیع کی اور آئین کے آرٹیکل 175(2) کے تحت اس کے پاس ایسا اختیار موجود نہیں تھا۔ مزید کہا گیا کہ عدالت نے اپنے حکم میں صوبے بھر کے چڑیا گھروں کا دورہ کرنے اور بہتری کے اقدامات تجویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی، جو اصل درخواست کی حدود سے باہر اور بینچ کے دائرہ اختیار سے تجاوز تھا۔
کے ایم سی نے عدالت سے درخواست کی کہ متنازع فیصلے پر نظرثانی کرکے اسے ترمیم کیا جائے اور اصل پٹیشن کو نمٹا دیا جائے۔
دریں اثنا، درخواست گزار جوڈ ایلن پیریرا نے بھی اپنی درخواست میں ترمیم کے لیے ایک علیحدہ درخواست دائر کی ہے، جسے عدالت نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے کے ایم سی حکام اور چڑیا گھر انتظامیہ کو نوٹس جاری کر دیا۔