یونیورسٹی روڈ پر 2.7 کلومیٹر واٹر پائپ لائن کا کام تعطل کا شکار
ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود علاقہ مکین شدید مشکلات میں مبتلا
کراچی: یونیورسٹی روڈ پر جاری کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (KWSSIP) اور کے۔فور آبی منصوبے سے منسلک 2.7 کلومیٹر طویل واٹر ٹرانسمیشن پائپ لائن کا کام عارضی طور پر رک گیا ہے، جبکہ منصوبے کی 31 دسمبر 2025 کی ڈیڈ لائن بھی گزر چکی ہے۔ اس صورتحال کے باعث یونیورسٹی روڈ اور گردونواح کی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ 2.7 کلومیٹر طویل پائپ لائن نیپا چورنگی سے حسن اسکوائر تک یونیورسٹی روڈ کے اس حصے پر بچھائی جا رہی ہے جو کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے ساتھ مشترکہ کوریڈور میں واقع ہے۔ منصوبے کا مقصد کے۔فور کے تحت قائم ہونے والے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کو شہر کے موجودہ واٹر نیٹ ورک سے منسلک کرنا ہے، جس کے ذریعے روزانہ 130 ملین گیلن پانی کراچی کو فراہم کیا جانا ہے۔
اس منصوبے کے تحت پہلی بار پاکستان میں 96 انچ قطر کی بڑی پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے، جبکہ بعض مقامات پر 72 انچ قطر کی پائپ لائن بھی شامل ہے، تاکہ زیادہ مقدار میں پانی مؤثر انداز میں منتقل کیا جا سکے۔ تاہم تعمیراتی سرگرمیوں کے تعطل اور ڈیڈ لائن کے گزر جانے سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی بی آر ٹی منصوبے کے باعث برسوں سے ٹریفک جام، گردوغبار، شور اور کاروباری نقصان کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اب واٹر پائپ لائن کے کام میں تاخیر نے ان کی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔ سڑکوں کی بندش، لین کی محدود دستیابی اور بار بار کھدائی کے باعث طلبہ، مریضوں، دفتری ملازمین اور تاجروں کو روزانہ شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے کام کی بحالی کے لیے فوری اور واضح ٹائم لائن دیں، تعمیراتی سرگرمیاں تیز کی جائیں اور یونیورسٹی روڈ پر رہنے اور سفر کرنے والے لاکھوں افراد کو مزید اذیت سے بچایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ منصوبہ کراچی کے دیرینہ پانی کے مسئلے کے حل کے لیے نہایت اہم ہے، مگر ناقص منصوبہ بندی اور تاخیر نے عوام کا اعتماد مجروح کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی، تاہم موجودہ تعطل اور غیر یقینی صورتحال نے اس بڑے منصوبے کے ثمرات کو عوام کی نظروں میں مشکوک بنا دیا ہے۔