اختیارات اور فنڈز سے محرومی کے خلاف بلدیاتی نمائندوں کا یومِ سیاہ
خیبر: اختیارات اور ترقیاتی فنڈز سے محرومی کے خلاف خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بلدیاتی نمائندوں نے جمعہ کے روز یومِ سیاہ منایا۔ یہ احتجاج بلدیاتی نمائندوں کی مدتِ ملازمت کے چار سال مکمل ہونے کے موقع پر کیا گیا۔
ضلع خیبر میں جمرود، باڑہ اور لنڈی کوتل کی تحصیل کونسلوں کے نمائندوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اور مطالبات کے حق میں نعرے درج پلے کارڈز اٹھا کر مظاہرے کیے۔ جمرود، لنڈی کوتل اور باڑہ کے تحصیل چیئرمین بالترتیب عظمت خان، شاہ خالد اور مفتی کفیل نے الگ الگ احتجاجی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کو نئے بلدیاتی نظام سے بہت امیدیں تھیں، تاہم صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو ان کے جائز اختیارات سے محروم رکھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ صورتحال کو مزید خراب کرتے ہوئے صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز صوبائی اسمبلی کے ارکان کو منتقل کر دیے، جو جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کی روح کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نمائندوں کو محض دستاویزات کی تصدیق کرنے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صوبائی حکومت نے آئینی اختیارات اور ترقیاتی فنڈز فراہم نہ کیے تو ضم شدہ اضلاع بھر میں احتجاجی تحریک کو وسعت دی جائے گی۔
ضلع باجوڑ میں بھی بلدیاتی نمائندوں نے فنڈز اور اختیارات کی عدم فراہمی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ خار میں باجوڑ پریس کلب کے سامنے ہونے والے احتجاج میں مختلف ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کے چیئرمین اور کونسلرز نے شرکت کی۔ مظاہرین نے صوبائی حکومت کی جانب سے متعلقہ قانون میں ترامیم کے خلاف بینرز اٹھا رکھے تھے اور فنڈز و اختیارات سے محرومی کے خلاف نعرے لگائے۔
خار تحصیل کونسل کے چیئرمین حاجی سعید بادشاہ، انجینئر امیر نواب، حاجی انور حسین، ظہور احمد عثمان، فرمان اللہ اور دیگر مقررین نے کہا کہ 19 دسمبر 2021 کو منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ 2026 میں مکمل ہو جائے گی، تاہم ان چار برسوں کے دوران صوبائی حکومت نے نہ تو انہیں اختیارات دیے اور نہ ہی ترقیاتی فنڈز فراہم کیے۔
مقررین نے کہا کہ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چار سال میں باجوڑ میں ترقیاتی کاموں کے لیے ایک سے تین ارب روپے فراہم کیے گئے، لیکن ان کے مطابق یہ فنڈز صرف کاغذات تک محدود رہے۔
اسی طرح ضلع شانگلہ میں الپوری تحصیل کونسل کے ارکان نے بھی فنڈز اور اختیارات کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاجی اجلاس منعقد کیا۔ بلدیاتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ تین مختلف وزرائے اعلیٰ کے ادوار میں بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات محدود کیے گئے اور ترقیاتی فنڈز منجمد رکھے گئے۔
تحصیل چیئرمین وقار احمد خان، اپوزیشن لیڈر علی بش خان، اسپیکر محمد عالم خان اور دیگر چیئرمینوں شاہد خان، علی خان، بدر منیر، جنید روز، سعید اللہ، سہیل اقبال، نور عالم اور گل محمد خان نے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سابق وزرائے اعلیٰ محمود خان اور علی امین گنڈاپور کے ساتھ ساتھ موجودہ قیادت نے بھی بلدیاتی اداروں کو دانستہ طور پر غیر مؤثر رکھا، جبکہ موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی بلدیاتی نمائندوں کے حقوق بحال کرنے میں ناکام رہے۔