پشاور ہائی کورٹ نے بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے قائم کمیٹی کا نوٹیفکیشن طلب کر لیا

شاور: پشاور ہائی کورٹ نے بدھ کے روز خیبر پختونخوا حکومت سے صوبے میں بلدیاتی اداروں سے متعلق مسائل کے جائزے کے لیے قائم کردہ کمیٹی کا نوٹیفکیشن طلب کر لیا۔ یہ حکم جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے مختلف کیٹیگریز کے بلدیاتی اداروں کے سربراہان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔

درخواست 29 میئرز اور چیئرمینوں نے مشترکہ طور پر دائر کی، جن میں مردان سٹی حکومت کے میئر حمایت اللہ مایار بھی شامل ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی دفعہ 79 میں ترمیم کرتے ہوئے ان کی مدت میں ایک بار تین سال کی توسیع کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ انہیں قانون کے مطابق انتظامی اور مالی اختیارات فراہم کیے جائیں۔

درخواست میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا، سیکریٹری بلدیات اور سیکریٹری قانون و پارلیمانی امور کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل بابر خان یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ ایکٹ کی دفعہ 30 کے تحت مقامی حکومتوں کو حکومت یا دیگر اداروں سے فنڈز اور گرانٹس ملنی تھیں، تاہم تاحال ایسی کوئی گرانٹ موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث صوبے کی 131 تحصیل کونسلیں اپنا سالانہ بجٹ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق منتقل شدہ دفاتر منتخب میئرز اور چیئرمینوں کے حوالے کیے جانے تھے، مگر اب تک ایسا نہیں کیا گیا جس کے باعث یہ دفاتر تقریباً غیر فعال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات 19 دسمبر 2021 اور 31 مارچ 2022 کو دو مراحل میں منعقد ہوئے تھے اور صوبے بھر کی 131 تحصیل کونسلیں پچاس ملین سے زائد آبادی کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے میئرز اور چیئرمینوں کو اپنے دفاتر چلانے کے لیے مالی و انتظامی اختیارات نہیں دیے گئے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فروری 2024 کے عام انتخابات کے دوران صوبے بھر کی بلدیاتی کونسلیں معطل کر دی گئی تھیں اور اس معطلی کی مدت کو موجودہ منتخب کونسلوں کی مدت سے خارج کیا جانا چاہیے۔

درخواست گزاروں کے مطابق آئین پاکستان کے آرٹیکل 140-اے کے تحت مقامی حکومتوں کا قیام اور سیاسی، انتظامی و مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی لازم ہے، تاہم انہیں یہ اختیارات فراہم نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 32 اور 140-اے کی خلاف ورزی ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت نے حال ہی میں بلدیاتی امور کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی نوٹیفکیشن کے ذریعے قائم کی ہے اور درخواست گزاروں کے اٹھائے گئے نکات اسی کمیٹی میں زیر غور آئیں گے، جس پر عدالت نے متعلقہ نوٹیفکیشن طلب کر لیا۔

متعلقہ خبریں