محکمہ صحت نشترآباد اسپتال چلانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کرنے لگا

پشاور(نمائندہ مقامی حکومت) محکمہ صحت خیبر پختونخوا گورنمنٹ جنرل اسپتال نشترآباد پشاور کو چلانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں اسے خیبر میڈیکل یونیورسٹی اسپتال و ریسرچ سینٹر کے ساتھ منسلک کرنا یا کسی نجی ادارے کے سپرد کرنا شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق منصوبے کے اختتام سے قبل خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔

2018 میں تعمیر ہونے والا یہ 80 بستروں پر مشتمل اسپتال ابتدائی طور پر پی سی ون کے مطابق بریسٹ کینسر اور ہیپاٹائٹس کے علاج کے لیے قائم کیا جانا تھا، تاہم 2019 میں کورونا وبا کے باعث اسے کووڈ-19 اسپتال کے طور پر فعال کر دیا گیا۔ یہ اسپتال 2020 سے خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر انویسٹمنٹ پراجیکٹ کے تحت چل رہا ہے اور اس وقت ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ کے تحت میڈیکل ایمرجنسی ریزیلینس فاؤنڈیشن (MERF) کے سپرد ہے، جس کا معاہدہ جون 2026 میں ختم ہو جائے گا۔

سیکریٹری صحت شاہداللہ خان نے بتایا کہ منصوبے کے اختتام کے بعد بھی عوام کو مفت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسپیشل سیکریٹری صحت کی زیر صدارت اجلاس میں اسپتال کی پائیداری اور ایگزٹ اسٹریٹجی سے متعلق تجاویز طلب کی گئیں تاکہ خدمات کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔

اجلاس میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے نمائندوں نے بتایا کہ یونیورسٹی اپنے تعلیمی کردار کے ساتھ ساتھ خیبر میڈیکل یونیورسٹی اسپتال و ریسرچ سینٹر میں متعدی اور غیر متعدی امراض کے شعبوں کے علاوہ آنکولوجی کی بڑی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق یونیورسٹی کے پاس کینسر اور ذیابیطس کے علاج اور جدید تشخیصی سہولیات کا مکمل نظام موجود ہے، جس کے باعث وہ اسپتال چلانے کی مضبوط امیدوار ہو سکتی ہے۔ یونیورسٹی کے شعبہ فیملی میڈیسن میں بنیادی صحت کے ماڈل کو بھی آزمایا جا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر خدمات دس روپے فی مریض کی معمولی فیس پر جاری رکھنی ہوں تو حکومتی گرانٹ درکار ہوگی، جس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ عملہ حکومت فراہم کرتی ہے یا براہ راست بھرتی کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی نے نشترآباد اسپتال کو اپ گریڈ کر کے اسے حیات آباد میں قائم اپنے آنکولوجی شعبے سے منسلک کرنے میں دلچسپی بھی ظاہر کی ہے۔ حال ہی میں یونیورسٹی نے ہیپاٹولوجی کے لیے 55 کروڑ روپے مالیت کا جدید آلات بھی نصب کیا ہے۔

متبادل کے طور پر اسپتال کو خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کے ذریعے آؤٹ سورس کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی، تاہم اس صورت میں اسے کیٹیگری سی یا ڈی اسپتالوں کی طرح سرکاری بجٹ درکار ہوگا۔ محکمہ صحت کے ذریعے براہ راست انتظام سنبھالنے کا آپشن بھی زیر بحث آیا مگر اسپتال کے حجم اور مریضوں کے بوجھ کے باعث اسے ترجیح نہیں دی گئی۔

اجلاس میں او پی ڈی فیس میں نمایاں اضافے سے ممکنہ سیاسی ردعمل کے پیش نظر احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ او پی ڈی فیس کو زیادہ سے زیادہ 40 روپے تک بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور آئی، جس کی منظوری مجاز فورم سے مشروط ہوگی۔ حکام کے مطابق اگلے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ اسپتال نجی ادارے کے سپرد کیا جائے یا خیبر میڈیکل یونیورسٹی اسپتال و ریسرچ سینٹر کے ساتھ منسلک کیا جائے۔

متعلقہ خبریں