لاہور (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کے اہم زرعی ضلع رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت میں نمایاں کمی اور گنے کی بڑھتی ہوئی کاشت نے زرعی منظرنامہ یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، جس پر ماہرین اور صنعتکاروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے خبردار کیا ہے کہ کپاس سے گنے کی طرف یہ تیزی سے منتقلی ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے شدید خطرہ بن رہی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 15 سال قبل تک رحیم یار خان ملک میں کپاس کی پیداوار میں سرفہرست تھا اور قومی پیداوار کا 11 سے 13 فیصد حصہ فراہم کرتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ’خان کاٹن‘ اپنی اعلیٰ کوالٹی کے باعث یورپی منڈیوں میں بے حد مقبول تھی اور عالمی ملبوساتی برانڈز میں استعمال ہوتی تھی۔ 2011-12 میں پاکستان میں کپاس کی پیداوار 14.8 ملین گانٹھوں تک پہنچی تھی، جس میں رحیم یار خان کا حصہ تقریباً 15 سے 18 لاکھ گانٹھیں تھا۔
تاہم 2012 کے بعد نئی شوگر ملز کے قیام اور پرانی ملوں کی توسیع کے باعث کسانوں نے گنے کی کاشت کی طرف رخ کرنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں کپاس کے زیرِ کاشت رقبہ 8 لاکھ ایکڑ سے کم ہو کر 3 لاکھ ایکڑ سے بھی نیچے آ گیا ہے۔
اس وقت ضلع میں چھ شوگر ملز کام کر رہی ہیں جبکہ مزید ملز کے قیام کی اطلاعات، خصوصاً ظاہر پیر اور سندھ پنجاب سرحدی علاقوں میں، کپاس کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہیں۔
صوبائی سطح پر بھی اس تبدیلی کے اثرات نمایاں ہو چکے ہیں۔ ماضی میں پنجاب کپاس کی پیداوار میں سندھ سے کئی گنا آگے تھا، تاہم 2024-25 میں پہلی بار سندھ نے پنجاب کو پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ 2025-26 میں بھی سندھ کی برتری برقرار رہی۔
احسان الحق کے مطابق سندھ، بلوچستان اور چولستان جیسے علاقوں میں جہاں گنے کی کاشت نہیں ہوتی، وہاں کی کپاس اب بھی بہتر معیار، زیادہ تیل کی مقدار اور بہتر بیج کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کی مارکیٹ میں زیادہ قیمت ملتی ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں کراپ زوننگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ کپاس کی کاشت کو فروغ دیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق کپاس کی بحالی نہ صرف ٹیکسٹائل صنعت کو سہارا دے سکتی ہے بلکہ درآمدات میں کمی، زرِ مبادلہ کے ذخائر کے تحفظ اور معیشت کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔