مشرق وسطیٰ جنگ کے باوجود ایران کے ساتھ سرحدی تجارت جاری

کوئٹہ (نمائندہ مقامی حکومت) — مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور ایران میں اہم تنصیبات پر حملوں کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ ایرانی تیل، ایل این جی اور بجلی کی فراہمی بھی برقرار ہے۔

گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین نوید کلمتی کے مطابق تفتان، گبد، رمدان، مند، پنجگور اور دیگر سرحدی راستے کھلے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قانونی تجارت بلا تعطل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران سے پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی میں ابتدائی طور پر کچھ کمی ضرور آئی، تاہم سپلائی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سپلائی میں کمی اور ذخیرہ اندوزی کے باعث ساحلی علاقوں میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی لیٹر قیمت 130 سے 170 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ جنگ کے آغاز پر یہ قیمت 200 روپے تک جا پہنچی تھی۔

ایل این جی کی فراہمی کے حوالے سے بھی بتایا گیا کہ گبد، مند، پنجگور اور تفتان کے راستوں سے روزانہ ایل این جی سے بھرے ٹینکر پاکستان داخل ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ اسمگل شدہ ایرانی تیل کی سپلائی بھی زمینی اور سمندری راستوں سے معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔

مکران ڈویژن کے لیے ایران سے بجلی کی فراہمی بھی بلا تعطل جاری ہے۔ کیسکو حکام کے مطابق گوادر، پنجگور اور تربت سمیت پسنی اور جیوانی کے علاقوں کو بھی ایرانی بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

خوراک کی فراہمی بھی متاثر نہیں ہوئی اور ایران سے کوکنگ آئل، آٹا، سبزیاں، پھل، شہد، انڈے اور دیگر اشیائے خوردونوش کی ترسیل جاری ہے۔

تاہم کوئٹہ میں ایرانی مصنوعات، خصوصاً پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں یہ 270 سے 300 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے، جس کی وجہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ کے باوجود تجارت کا تسلسل برقرار ہے، تاہم سپلائی میں معمولی رکاوٹیں اور مقامی سطح پر ناجائز منافع خوری عوام کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں