کے پی اراکینِ اسمبلی کی جانب سے صوبے میں پائیدار امن کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویز

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین نے پیر کے روز صوبے میں خراب امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ اور جامع مشاورت کے لیے ایوان ہی میں ایک آل پارٹیز کانفرنس (ایم پی سی) منعقد کرنے کی متفقہ تجویز پیش کی، تاکہ دیرپا امن کے لیے مؤثر حکمتِ عملی مرتب کی جاسکے۔ اسپیکر بابرسلیم سواتی کی زیر صدارت اجلاس میں اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے مسائل، خصوصاً امن و امان کے بحران، مشترکہ کوششوں کے بغیر حل نہیں ہوسکتے۔ اسپیکر نے کہا کہ صوبہ تمام سیاسی جماعتوں کا ہے، اس لیے یہاں موجود ایوان کو چاہیے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان، تھنک ٹینکس، موجودہ و سابق وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور قانونی ماہرین کو دعوت دے کر ان کی تجاویز حاصل کرے تاکہ ایک جامع اور مؤثر حکمتِ عملی تشکیل دی جاسکے۔

پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی احمد کریم کنڈی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فوجی آمروں نے آئین کی خلاف ورزی کی، لیکن جمہوری نظام کو اصل نقصان سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات نے پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی قیادت مل کر فیصلے کرے، اور ایسے میں اپوزیشن بھرپور تعاون کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آخر ہم اس معزز فورم — اسمبلی — کو کیوں استعمال نہیں کرتے، جبکہ عوام اپنی مشکلات کے حل کے لیے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔

اے این پی کے رکن ارباب عثمان نے بھی مجوزہ ایم پی سی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ کی طرح امن کے لیے قربانیاں دیتی رہے گی۔ حکمران جماعت پی ٹی آئی کے ڈاکٹر امجد علی نے بھی پیپلز پارٹی کی تجاویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ جب بھی سیاسی جماعتوں میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں تو "اصل قوتیں” اس سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ فوجی آمروں نے ملک پر 36 سال حکومت کی، تو ان کی کارکردگی پر سوال اٹھانا بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹر امجد علی نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو صوبے کے مفاد میں اختلافات بھلا کر ایک ساتھ بیٹھنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایکشن (ان ایڈ آف سول پاور) آرڈیننس 2019 کے فیصلے کے خلاف خیبر پختونخوا حکومت کی اپیل واپس لینے کے حوالے سے فیصلہ نئی صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں کیا جائے گا۔ ڈاکٹر امجد علی نے انکشاف کیا کہ انٹیلی جنس ادارے انہیں کٹلنگ ڈرون حملے سے متعلق آواز اٹھانے پر دھمکیاں دیتے رہے، جس حملے میں معصوم بچے، خواتین اور مرد جاں بحق ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر، ریجنل صدر اور اپنے بھتیجے کے ذریعے دھمکیاں دیں گئیں کہ "تمہیں مثال بنا دیں گے”۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نیب اور ایف آئی اے کی جانب سے درجنوں نوٹس ملے اور نیب کے دفتر میں انہیں مجرموں کی طرح پیش کیا گیا، جہاں ان کی کردارکشی کی کوشش کی گئی۔ ایک نیب افسر نے ان سے اسلام آباد اور ڈی ایچ اے میں مبینہ نو جائیدادوں کے بارے میں پوچھا، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اگر ایسی کوئی جائیدادیں ہیں تو انہیں تلاش کریں، نیلام کریں اور رقم سوات کے یتیم بچوں میں تقسیم کر دیں۔

اسپیکر سواتی نے ایوان کو بتایا کہ چیئرمین نیب سے ملاقات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسپیکر آفس میں نیب کی سب آفس قائم کی جائے گی اور منتخب اراکین کے خلاف کسی بھی الزام کو ایک فوکل پرسن کے ذریعے نمٹایا جائے گا۔ اگر کوئی الزام ہو تو اسے اسپیکر کے چیمبر میں دیکھا جائے گا، اور اگر غلط ثابت ہوا تو فوراً واپس کردیا جائے گا، مگر اگر ثبوت موجود ہوئے تو پھر کارروائی اسپیکر آفس کے ذریعے ہی آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو اپنے حلف کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ اسپیکر نے ہدایت کی کہ منگل کو دوپہر 12 بجے نیب خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر کو میٹنگ کے لیے بلایا جائے۔

اسپیکر سواتی نے کہا کہ ایوان میں ہر شخص پر بات ہوسکتی ہے چاہے وہ کسی بھی ادارے سے تعلق رکھتا ہو، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خفیہ ادارے اراکین کو نشانہ بنانا شروع کر دیں۔ ایم پی اے حمیدالرحمن نے کہا کہ 22 فوجی آپریشن کیے گئے اور ہر آپریشن کے بعد ریاست نے دہشتگردی کے خاتمے کا دعویٰ کیا، مگر صورتحال اب بھی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1200 کیمرے نصب ہونے کے باوجود افغانستان سے لوگ آسانی سے پاکستان میں داخل ہوجاتے ہیں جبکہ دہشتگرد دندناتے پھرتے ہیں۔

اراکین اسمبلی نے اس بات پر زور دیا کہ ہر شخص کو اپنی پارٹی قیادت سے ملاقات اور مشاورت کا حق حاصل ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن عدنان خان نے کہا کہ اگر وزیرِ اعلیٰ کا نام ٹوئٹر (ایکس) پر دیے گئے ایک ٹوئٹ سے سامنے آسکتا ہے، تو کابینہ اراکین کے نام بھی اسی طرح طے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی ارکان ایکس پر استعفے دے سکتے ہیں، تو نئی کابینہ کے نام بھی اسی پلیٹ فارم پر کیوں نہیں بتائے جاتے؟ انہوں نے کابینہ کی فوری تشکیل کا مطالبہ کیا۔

اسپیکر نے سکھ برادری کو گرو نانک کے جنم دن پر مبارک باد بھی دی۔ اجلاس میں ایک قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں قبائلی عمائدین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا گیا کہ وہ مقامی سطح پر اور افغانستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں تاکہ خطے میں پائیدار امن یقینی بنایا جاسکے۔ قرار داد میں نشاندہی کی گئی کہ حکام اور باجوڑ امن جرگے کے درمیان طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے، جس کے تحت طے پایا تھا کہ شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور کلیئرنس آپریشن محدود مدت میں مکمل ہوگا، تاہم آپریشن اب بھی جاری ہے۔

مزید برآں ایوان نے ایک اور متفقہ قرار داد منظور کی جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر میں کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کی ہر ممکن سطح پر حمایت کرے۔ یہ قرار داد ایم پی اے محمد نسیم خان نے پیش کی۔

متعلقہ خبریں