پنجاب پولیس میں نئی پالیسی کے تحت ایس ایچ اوز کی کارکردگی عوامی رائے سے مشروط
لاہور: پولیس کو عوام دوست اور زیادہ جوابدہ بنانے کے لیے لاہور پولیس نے سال 2026 کے لیے نئی پالیسی فریم ورک متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت تھانوں کے ایس ایچ اوز اور دیگر پولیس اہلکاروں کی کارکردگی کو براہِ راست عوامی فیڈ بیک سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق 2026 کو ’’عبوری سال‘‘ قرار دیا گیا ہے، جس کے دوران کانسٹیبل سے لے کر ایس ایچ او تک تمام اہلکار شہریوں سے باوقار اور مہذب رویہ اختیار کریں گے۔ نئی ہدایات کے تحت مرد سائلین کو ’’سر‘‘ اور خواتین کو ’’میم‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جائے گا تاکہ پولیس کے بارے میں عوامی تاثر بہتر بنایا جا سکے۔
افسر نے بتایا کہ لاہور کے تمام 84 تھانوں کو 2026 میں ’’شہری سہولت مراکز‘‘ کے طور پر فعال کیا جائے گا، نہ کہ شکایات کی حوصلہ شکنی کرنے والے مراکز کے طور پر۔ ان کا کہنا تھا کہ تھانوں میں عوام کے ساتھ بدتمیزی پولیس کے لیے ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے، جس کے باعث عوام کا اعتماد متاثر ہوا، اور اب اسے بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
نئی پالیسی کے مطابق تھانوں میں بدسلوکی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا غیر مناسب رویے کی صورت میں متعلقہ اہلکار کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی جائے گی، جس میں تبادلہ اور معطلی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ ایس ایچ او، محرر اور دیگر ذمہ دار افسران پر لازم ہو گا کہ وہ تھانے آنے والے ہر شہری کا باقاعدہ بیان اور فیڈ بیک ریکارڈ کریں، جس میں تھانے کے گیٹ سے لے کر دفتر تک کے تجربے کو شامل کیا جائے گا۔
اسی طرح ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر موصول ہونے والی کالز پر ردعمل کے وقت اور گشت کرنے والی ٹیموں کی کارکردگی کو بھی تھانوں کی مجموعی کارکردگی سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ پولیس چوکیوں پر غیر ضروری روک ٹوک اور ہراسانی کی شکایات کے پیش نظر وہاں بھی یہی معیار لاگو کیا جا رہا ہے، جبکہ شناختی جانچ اور سیکیورٹی اقدامات کو قانون کے دائرے میں رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ اقدامات اہلکاروں کے جارحانہ رویے سے متعلق بار بار سامنے آنے والی شکایات کے بعد کیے جا رہے ہیں۔ سال 2025 کے دوران محکمہ پولیس نے احتساب کے عمل کو مزید سخت کیا، جس کے تحت 470 سے زائد افسران اور اہلکاروں کے خلاف بدانتظامی، غفلت یا اختیارات کے ناجائز استعمال پر کارروائی کی گئی۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ غفلت اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی، جس کی مثال اچھرہ کے ایس ایچ او محمد الیاس کی معطلی ہے۔ حکام کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی جانب سے کی گئی یہ کارروائی پولیس فورس کے لیے واضح پیغام ہے کہ عوام کے تحفظ اور کارکردگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
محکمہ پولیس کا کہنا ہے کہ 2026 میں نافذ کی جانے والی یہ اصلاحات سروس ڈیلیوری، شفافیت، جوابدہی اور شہریوں کے احترام کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہیں۔