جیکب آباد پولیس اسٹیشن میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا مقدمہ ایف آئی اے لاڑکانہ منتقل
سکھر: جیکب آباد کے ایک پولیس اسٹیشن میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون نے منگل کے روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج شرف الدین شاہ کے روبرو اپنا بیان قلمبند کرا دیا۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں جان بوجھ کر آر ڈی-44 پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او اور ہیڈ منشی کے نام نکال دیے گئے ہیں، حالانکہ وہ اس کیس کے مرکزی ملزمان ہیں۔
متاثرہ خاتون کے مطابق اسے، اس کی بہن اور دادی کو ایک قتل کیس کی تفتیش کے بہانے پولیس نے حراست میں رکھا، جہاں کئی دنوں تک مبینہ طور پر سات پولیس اہلکاروں نے اسے روزانہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خاتون نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او اور ہیڈ منشی کے نام دوبارہ ایف آئی آر میں شامل کیے جائیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران تفتیشی افسر ڈی ایس پی ٹھل غلام مصطفیٰ ابڑو بھی موجود تھے۔ تینوں خواتین کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج نے مقدمہ فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج ارجن لال کو منتقل کر دیا، جنہوں نے شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کے لیے کیس ایف آئی اے لاڑکانہ کے کرائم سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 01/2026 کے تحت آر ڈی-44 پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ دوسری جانب جیکب آباد کے ایس ایس پی کلیم ملک نے واقعے میں ملوث ساتوں پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا تھا، جنہیں بعد ازاں گرفتار بھی کر لیا گیا۔
یہ واقعہ سندھ میں پولیس حراست کے دوران شہریوں کے تحفظ، احتساب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔