سی سی ڈی کی کارکردگی پر بحث کا مطالبہ، رکن بنجاب اسمبلی کا اسپیکر کو کھلا خط
لاہور: وقاص محمود مان، رکنِ صوبائی اسمبلی پنجاب (پی ٹی آئی) نے ملک محمد احمد خان کو ایک کھلا خط لکھ کر صوبائی اسمبلی میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارکردگی اور جوابدہی پر باضابطہ بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی حالیہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
خط میں پی ٹی آئی رکن نے اسپیکر کی جانب سے پارلیمانی روایات کو مضبوط بنانے، قائمہ کمیٹیوں کو فعال کرنے اور ارکان کو آئینی نگرانی کا اختیار استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کو سراہا، تاہم کہا کہ اہم طرزِ حکمرانی اور انسانی حقوق کے معاملات پر بامعنی بحث کا فقدان ہے۔
انہوں نے 17 فروری 2026 کی ایچ آر سی پی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سی سی ڈی نے ’’عدلیہ کا کردار سلب‘‘ کیا ہے، جس سے انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کے درمیان آئینی توازن متاثر ہوا۔ ان کے مطابق اختیارات کی تقسیم پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد ہے اور کسی بھی ادارے کو اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 2025 کے آٹھ ماہ کے دوران پنجاب میں سی سی ڈی کی قیادت میں کم از کم 670 پولیس مقابلے رپورٹ ہوئے جن میں 924 افراد ہلاک ہوئے۔ ان کے بقول رپورٹ میں مبینہ جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں، جو درست ثابت ہونے کی صورت میں قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
وقاص محمود مان نے ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت حراستی اموات کی تحقیقات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کی نگرانی میں کرنا ہوتی ہیں، تاہم رپورٹ میں لازمی قانونی تقاضوں، بشمول ضابطہ فوجداری کی دفعات 174 تا 176 کے تحت مجسٹریٹ انکوائری، پر مکمل عملدرآمد کے شواہد واضح نہیں ملے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں بین الاقوامی معیارات، خصوصاً اقوام متحدہ کے طاقت اور اسلحہ کے استعمال سے متعلق بنیادی اصولوں کے مطابق ہونی چاہییں۔ ان کے مطابق پائیدار عوامی تحفظ ایسے اقدامات سے حاصل نہیں ہو سکتا جو تفتیش، استغاثہ اور عدالتی احتساب کے عمل کو نظرانداز کریں۔
پی ٹی آئی رکن نے اپنے خط میں یہ بھی یاد دلایا کہ 25 فروری 2026 کے اسمبلی اجلاس میں جب انہوں نے ایچ آر سی پی رپورٹ کی بنیاد پر یہ معاملہ اٹھانے کی کوشش کی تو ان کے نکات کو ’’سنی سنائی باتیں‘‘ قرار دیا گیا۔ انہوں نے ایچ آر سی پی کو چار دہائیوں پر محیط انسانی حقوق کی جدوجہد رکھنے والا معتبر ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی رپورٹ سنجیدہ پارلیمانی غور و فکر کی متقاضی ہے۔
انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ ایوان کے نگہبان کی حیثیت سے غیر جانبدار رہتے ہوئے اس معاملے پر بحث کے لیے ایک مخصوص دن مقرر کیا جائے اور حکومت کو ہدایت کی جائے کہ وہ اسمبلی کو سی سی ڈی کے مینڈیٹ، آپریشنز اور احتسابی طریقہ کار پر بریفنگ دے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ 25 فروری کے اجلاس میں اس معاملے پر بحث کی اجازت دینے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔