لاہور–بہاولنگر موٹروے انتظامی تنازعات کی زد میں

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے 465 ارب روپے لاگت کےصوبائی نوعیت کے منصوبے لاہور–بہاولنگر موٹروے کو بعض شرائط کے ساتھ منظوری کے لیے سفارش کر دی ہے، تاہم یہ سفارش نیشنل فِسکل پیکٹ، وزیرِاعظم ہاؤس کی ہدایات اور واضح مالی بندوبست کے بغیر دی گئی، جس پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کی لاگت دو سال قبل طے کی گئی رقم کے مقابلے میں 201 ارب روپے (76 فیصد) زیادہ ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے اہم منصوبے مین لائن۔1 (ML-I) کی افادیت، ضرورت اور اپ گریڈیشن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (CDWP) نے منگل کے روز لاہور–ساہیوال–بہاولنگر موٹروے منصوبے کو، جس کی مجموعی لاگت 465.1 ارب روپے ہے، ایکنک (ECNEC) کو حتمی منظوری کے لیے بھیج دیا۔

وزارتِ منصوبہ بندی کے ترجمان کے مطابق منصوبے کے کچھ حصے قواعد و ضوابط مکمل ہونے کے بعد منظور کیے گئے، جبکہ باقی حصوں کو اصولی منظوری دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ منظوری نیشنل فِسکل پیکٹ کی خلاف ورزی ہے، جو صوبائی نوعیت کے منصوبوں کی وفاقی فنڈنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح وزیرِاعظم شہباز شریف کی اس ہدایت پر بھی عمل نہیں کیا گیا جس میں پنجاب حکومت سے کم از کم 50 فیصد فنڈنگ یقینی بنانے کا کہا گیا تھا۔

دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبے کے لیے نہ تو حتمی ڈیزائن تیار ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ عمل مالی منصوبہ موجود ہے، اس کے باوجود اسے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے ذریعے مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی مدتِ تکمیل پانچ سال رکھی گئی ہے۔پلاننگ کمیشن کے تکنیکی شعبے نے نشاندہی کی ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد سے ML-I جیسے اسٹریٹجک منصوبے کی اہمیت متاثر ہو سکتی ہے، جسے CDWP کو سنجیدگی سے مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔نظرثانی شدہ PC-I کے مطابق لاگت کا تخمینہ کمپوزٹ شیڈول آف ریٹس (CSR) 2024 پر مبنی ہے، حالانکہ این ایچ اے نے CSR 2025 جاری کر دیا ہے جو نسبتاً کم لاگت ہے۔ اس لیے منصوبے کی مجموعی لاگت کو ازسرِنو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر طے کرنے کی سفارش کی گئی ہے

۔منصوبے کے تحت دو حصوں پر مشتمل موٹروے تعمیر کی جائے گی۔ پہلا حصہ 220 کلومیٹر طویل، چھ لین پر مشتمل ہوگا جو لاہور رنگ روڈ سے شروع ہو کر قصووال کے قریب قومی شاہراہ N-5 پر ختم ہوگا۔ دوسرا حصہ 75 کلومیٹر طویل، چار لین پر مشتمل ہوگا جو ڈیپالپور کے قریب پہلے حصے سے نکل کر بہاولنگر کے قریب مچن آباد–بہاولنگر روڈ پر جا ملے گا۔فنڈنگ پر شدید تحفظاتذرائع کے مطابق CDWP اجلاس میں سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا گیا کہ 465 ارب روپے کے اس منصوبے سے دیگر اہم قومی منصوبے، جیسے قراقرم ہائی وے کی توسیع، سکھر–حیدرآباد موٹروے، خاران–راولپنڈی موٹروے، لواری ٹنل اور غیر ملکی فنڈڈ اسکیمیں متاثر ہو سکتی ہیں۔این ایچ اے کو اس وقت جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے 2.5 کھرب روپے کے تھرو فارورڈ کا سامنا ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں PSDP کے تحت این ایچ اے کو صرف 227 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پلاننگ کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ منصوبہ شروع کیا گیا تو دیگر اہم ترقیاتی اسکیمیں تاخیر یا تعطل کا شکار ہو سکتی ہیں۔قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ CDWP اور ایکنک کی ماضی کی واضح ہدایات کے باوجود وزارتِ مواصلات اور این ایچ اے نے نہ تو متبادل فنڈنگ کا بندوبست کیا اور نہ ہی منصوبے کو مرحلہ وار یا علیحدہ PC-I کی صورت میں پیش کیا، جس پر پالیسی اور گورننس کے حوالے سے مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔–

متعلقہ خبریں