پنجاب میں شہری بنیادی انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے سخت قانون نافذ

مین ہول ڈھکن اور اسٹریٹ لائٹس کی چوری پر 3 سال قید، 30 لاکھ جرمانہ

لاہور (نمائندہ مقامی حکومت) پنجاب حکومت نے شہری انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے سخت قانون نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت مین ہول کورز، اسٹریٹ لائٹس اور حفاظتی باڑ کی چوری ناقابلِ ضمانت جرم قرار دی گئی ہے۔ نئے قانون کے مطابق چوری پر کم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ تین سال قید کے ساتھ 2 لاکھ سے 30 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ اسکریپ ڈیلرز اور ری رولنگ پلانٹس کے لیے خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔“پنجاب پبلک یوٹیلٹیز انفراسٹرکچر پروٹیکشن آرڈیننس 2026 (IV آف 2026)” 19 فروری کو سردار سلیم حیدر خان نے آئین کے آرٹیکل 128(1) کے تحت نافذ کیا۔ آرڈیننس صوبے بھر میں لاگو ہوگا اور عوامی بنیادی ڈھانچے کی چوری، غیر قانونی ہٹانا، قبضہ، نقل و حمل، فروخت یا خریداری اور جان بوجھ کر نقصان پہنچانا قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔ “عوامی بنیادی ڈھانچہ” میں مین ہول ڈھکن، اسٹریٹ لائٹس، حفاظتی باڑیں اور دیگر اشیاء شامل ہیں جنہیں حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے شامل کر سکے گی۔قانون کے تحت اسکریپ ڈیلرز اور ری رولنگ پلانٹس عوامی بنیادی ڈھانچے کی اشیاء صرف اسی صورت خرید یا پروسیس کر سکیں گے جب وہ مستقل طور پر “ڈیفارم” کی گئی ہوں، یعنی دوبارہ استعمال کے قابل نہ رہیں۔ خلاف ورزی پر تین سال قید یا 10 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ ضبط شدہ اشیاء کی موجودگی پر ملزم کو خلاف ثابت کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر جرم ثابت سمجھا جائے گا۔نفاذ کے لیے حکومت کسی مجاز ادارے کو نامزد کر سکے گی، جس میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی یا دیگر ایجنسیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ اہلکاروں کو چیکنگ، ریکارڈ طلبی، ضبطی اور سیلنگ کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ مقدمات ناقابلِ ضمانت اور فاسٹ ٹریک بنیادوں پر تین ماہ میں نمٹائے جائیں گے۔ اگر جرم کے دوران جسمانی نقصان یا ہلاکت ہو تو سزا پاکستان پینل کوڈ کے تحت دی جائے گی۔آرڈیننس میں متعلقہ محکموں اور مقامی حکومتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ شہری تنصیبات کی بروقت مرمت و متبادل، معائنہ، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور کم از کم 10 فیصد ریزرو اسٹاک برقرار رکھیں۔ کسی تنصیب کے غائب یا نقصان کی صورت میں فوری حفاظتی رکاوٹیں اور وارننگ سائن بورڈ لگانا لازم ہوگا، بصورتِ دیگر ذمہ دار افسر کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی۔ عوامی شکایات کے لیے “وِسل بلوئر” میکانزم بھی متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ نیک نیتی سے کارروائی کرنے والے اہلکاروں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

متعلقہ خبریں