کراچی سیف سٹی منصوبہ: فیز ون دو ماہ میں فعال کرنے کا اعلان، ای چالان سسٹم کامیابی سے نافذ

کراچی: نگرانی کیمروں پر مبنی ٹریفک ریگولیشن اینڈ چالان سسٹم (ٹریکس) المعروف ای چالان سسٹم کے کامیاب آغاز کے باوجود کراچی سیف سٹی منصوبے کے فیز ون کی باضابطہ لانچنگ میں مزید دو ماہ لگیں گے۔ یہ بات جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس میں سامنے آئی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 20 کروڑ روپے لاگت کے کراچی سیف سٹی منصوبے کا فیز ون آئندہ دو ماہ کے اندر لانچ کر دیا جائے گا، کیونکہ ٹیکنالوجی کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے اور ٹرائل مراحل جاری ہیں۔ انہوں نے منصوبے کو مقررہ مدت میں فعال بنانے کے لیے ماہر عملے کی فوری بھرتی کی بھی ہدایت کی۔

منصوبے کے تحت شہر کے حساس علاقوں میں ریئل ٹائم نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اب تک 43 پول نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ کیمرے سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو براہِ راست ویڈیو فراہم کر رہے ہیں۔

فیز ون میں ہائی سکیورٹی ریڈ زون اور ایئرپورٹ کوریڈور کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ آئندہ مراحل میں ضلع جنوبی، شرقی، کورنگی اور ملیر کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔ کراچی سیف سٹی منصوبہ شہر کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس میٹروپولس بنانے کے بڑے وژن کا حصہ ہے، جس میں فیشل ریکگنیشن، آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن (اے این پی آر) اور انٹیلی جنٹ ٹریفک سسٹمز شامل ہیں۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے سندھ سیف سٹی اتھارٹی (ایس ایس سی اے) کو حیدرآباد اور سکھر میں بھی سیف سٹی منصوبوں کی تیاری شروع کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس حوالے سے مکمل منصوبہ اور ٹائم لائن منظوری کے لیے پیش کی جائے۔

اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی علی راشد، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی پولیس جاوید عالم اوڈھو، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے کو “آپریشنل پیرا لائسز” سے بچانے کے لیے 34 تکنیکی اور انتظامی ماہرین کی عارضی کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرری کی منظوری دی۔ فیز ون کے تحت 300 پول سائٹس پر 1,300 کیمروں کی تنصیب، 18 پوائنٹ آف پریزنس سائٹس اور 23 ایمرجنسی ریسپانس وہیکلز شامل ہیں، اور منصوبہ اس وقت “ایکسپٹینس ٹرائل فیز” میں ہے۔

وزیراعلیٰ نے فیز ون کے لیے 20 کروڑ روپے کے نظرثانی شدہ بجٹ کی بھی منظوری دی، جس میں افرادی قوت اور گشت و ٹرانسپورٹ کی ضروریات کو ترجیح دی گئی ہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ سندھ سیف سٹی اتھارٹی عارضی طور پر سی پی او سے کام کرے گی، جہاں آئی جی پولیس نے اتھارٹی کو ایک مخصوص فلور فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ڈی جی ایس ایس سی اے سرفراز نواز نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سرورز، ویڈیو والز اور فائبر آپٹک نیٹ ورک سمیت تکنیکی کام 17 دسمبر 2025 کو مکمل ہو چکا ہے، جبکہ کمپیوٹر ایڈیڈ ڈسپیچ سسٹم کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق فیشل ریکگنیشن اور اے این پی آر سسٹمز کا لائیو ڈیمونسٹریشن دو ہفتوں میں متوقع ہے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا، “کراچی کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہم منصوبے کے مرحلے سے مکمل فعال اتھارٹی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔” انہوں نے ماہرین کی بھرتی صرف ضرورت اور میرٹ کی بنیاد پر کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ حیدرآباد اور سکھر میں سیف سٹی منصوبوں اور صوبے کے داخلی و خارجی راستوں پر اسمارٹ کیمروں کی تنصیب کے لیے سروے نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) مکمل کر چکی ہے۔

متعلقہ خبریں