کرپشن الزامات پر میئر کراچی کا انکوائری کا حکم، تین روز میں رپورٹ طلب

کراچی: میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ پر بڑے پیمانے پر کرپشن کے الزامات سامنے آنے کے بعد فوری انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے میونسپل انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ٹینڈرنگ، بڈنگ اور پروکیورمنٹ کے تمام مراحل کا جامع اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور تین روز میں رپورٹ پیش کی جائے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب کراچی کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن نے کے ایم سی کے بعض سینئر انجینئرنگ افسران پر اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز میں مبینہ خرد برد، ٹینڈرز میں ہیرا پھیری، غیر معیاری سامان کی خریداری اور من پسند ٹھیکیداروں کو مسابقتی عمل کے بغیر ٹھیکے دینے کے الزامات عائد کیے۔ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ٹھیکیداروں سے مبینہ طور پر بھاری کمیشن طلب کیے جاتے ہیں اور انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے، جس کے باعث شفاف اور بروقت ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل متاثر ہو رہی ہے۔

کے ایم سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق میئر کراچی نے شکایات کا “سنجیدہ نوٹس” لیتے ہوئے میونسپل کمشنر سمیرا حسین کو ہدایت کی ہے کہ متعلقہ تمام امور کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انکوائری کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ آیا مقررہ قواعد و ضوابط اور معیاری طریقہ کار پر مکمل عملدرآمد کیا گیا یا کسی مرحلے پر بے ضابطگیاں ہوئیں۔

میئر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شفافیت، احتساب اور منصفانہ طرز حکمرانی شہری انتظامیہ کی اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کوئی فرد قواعد کی خلاف ورزی یا بدعنوانی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے تو حقائق منظر عام پر لا کر ادارے اور افسران کی ساکھ کا تحفظ کیا جائے گا۔

دوسری جانب کے سی اے کے چیئرمین ایس ایم نعیم کاظمی نے میئر کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انکوائری حقیقی معنوں میں شفاف ہونی چاہیے اور اسے رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی بدعنوانی نے ٹھیکیداروں کے لیے مسابقتی ماحول کو متاثر کیا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ یہ اقدام مؤثر نتائج دے گا۔

متعلقہ خبریں