حیدرآباد میں دریا کے کنارے رہائشی اسکیموں پر پابندی
کوہسار کے علاقے میں این او سی منسوخ کرنے کی ہدایت
حیدرآباد: صوبائی وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ دریا کے کنارے واقع کوہسار کے علاقے میں کسی بھی بستی یا ہاؤسنگ اسکیم کیلئے این او سی جاری نہ کیا جائے، اور اگر پہلے کوئی این او سی جاری کیا جا چکا ہے تو اسے فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ وہ پیر کے روز ہیومن سیٹلمنٹ اتھارٹی حیدرآباد کے زیر اہتمام کچی آبادیوں کے مکینوں میں ملکیتی دستاویزات تقسیم کرنے کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
وزیر بلدیات نے دریائی پٹی پر قائم تجاوزات کے خاتمے کیلئے میئر حیدرآباد کو اقدامات کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے امور کو قانون سازی کے ذریعے میئرز کے انتظامی کنٹرول میں دیا جا رہا ہے تاکہ ڈپٹی میئرز، یوسی چیئرمینز اور بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اداروں، ان کے وائس چیئرمینز اور یوسی چیئرمینز کو مزید اختیارات دینے کیلئے قانون سازی پر بھی کام جاری ہے اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا عملہ میئرز کو جوابدہ ہوگا جبکہ چیک اینڈ بیلنس کا مؤثر نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
انہوں نے گلستانِ سرمست ہاؤسنگ اسکیم میں کمپیوٹرائزڈ اسٹیج فور بیلٹنگ کی نگرانی کی اور پانچ ملین گیلن یومیہ استعداد کے واٹر ریزروائر کا افتتاح بھی کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کے مشیر نجمی عالم، میئر حیدرآباد کاشف علی شورو اور دیگر بلدیاتی نمائندے بھی موجود تھے۔
ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ ماضی میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مطالبہ کرنے والے اب اپنے مؤقف سے متضاد بات کر رہے ہیں، جبکہ آئین میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں، اس لیے اس مطالبے کو سنجیدہ نہیں لیا جا سکتا۔
تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صوبے میں ترقی اور امن چاہتے ہیں اور عوام کے بنیادی جائیدادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچی آبادیوں کے مزید علاقوں کو بھی ریگولرائز کیا جائے گا، تاہم غیر قانونی قابضین اور لینڈ گریبرز کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ جہاں لوگ ملکیتی فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں وہاں قانون سازی کے ذریعے سہولت فراہم کرنے پر غور کیا جائے گا