کراچی: کئی برسوں کی نظراندازی کے بعد گلستانِ جوہر کے اہم ٹریفک کوریڈور کی بحالی کے منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ جمعہ کے روز میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ڈیڑھ ارب 60 کروڑ روپے لاگت کے اس بڑے انفراسٹرکچر منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے روزانہ اس سڑک کو استعمال کرنے والے لاکھوں شہریوں کو نمایاں ریلیف ملے گا۔ یہ سڑک شہر کی اہم شاہراہوں سے رابطہ فراہم کرتی ہے جن میں ایئرپورٹ، شارع فیصل اور کورنگی انڈسٹریل ایریا تک رسائی شامل ہے۔
منصوبے کے تحت پہلوان گوٹھ روڈ سے حبیب یونیورسٹی اور وہاں سے صفورا کے ریس کورس روڈ تک مرکزی شاہراہ کی ازسرِ نو تعمیر اور اپ گریڈیشن کی جائے گی۔ تقریباً 4.26 کلومیٹر طویل اس کوریڈور کو جدید ڈوئل کیرج وے میں تبدیل کیا جائے گا جس میں نکاسیٔ آب، سیوریج اور اسٹریٹ لائٹنگ کی سہولیات بھی شامل ہوں گی۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل سے شہر کے مشرقی علاقوں میں ٹریفک کے بہاؤ اور رابطہ کاری میں نمایاں بہتری آئے گی۔ پہلوان گوٹھ کوریڈور گزشتہ ایک دہائی سے شدید خستہ حالی کا شکار تھا جس کے باعث شہریوں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑک، ٹریفک جام اور بارش کے دوران پانی جمع ہونے جیسے مسائل کا سامنا رہتا تھا۔
میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ منصوبے کے تحت 36 فٹ چوڑی جدید سڑک تعمیر کی جائے گی جبکہ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے جدید ڈرینیج سسٹم اور سیوریج لائنیں بھی بچھائی جائیں گی تاکہ علاقے میں پانی جمع ہونے کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے میں جدید اسٹریٹ لائٹنگ بھی نصب کی جائے گی جس کے لیے 200 سے زائد بجلی کے کھمبے اور ایل ای ڈی لائٹس لگائی جائیں گی تاکہ رات کے وقت بھی ٹریفک کی روانی محفوظ اور بہتر رہے۔
اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، کے ایم سی سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، منتخب نمائندے اور دیگر سرکاری افسران بھی موجود تھے۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ صفورا اور ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کو اس منصوبے سے نمایاں فائدہ پہنچے گا اور ضلع شرقی میں ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ترقیاتی منصوبے مرحلہ وار جاری رہیں گے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
مرتضیٰ وہاب نے مزید بتایا کہ منور چورنگی انڈر پاس پر کام تیزی سے جاری ہے جبکہ کریم آباد انڈر پاس کو عید کے فوراً بعد ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں ترقیاتی کام آسان نہیں، تاہم اس وقت شہر کے تمام 25 ٹاؤنز اور ساتوں اضلاع میں مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے اور ان کے نتائج بتدریج سامنے آئیں گے۔