ساہیوال کا ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ ناکارہ، کچرا ڈمپنگ سائٹ میں تبدیل
ساہیوال: ساہیوال میں قائم سالڈ ویسٹ سیگریگیشن، ٹریٹمنٹ اور ڈسپوزل پلانٹ ایک سال سے زائد عرصے سے غیر فعال پڑا ہے اور اسے باقاعدہ کچرا پھینکنے کی جگہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 39 کروڑ 43 لاکھ روپے کی لاگت سے 25 ایکڑ زرعی اراضی پر قائم اس پلانٹ کو روزانہ 150 سے 200 ٹن کچرا پراسیس کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، تاہم تکمیل کے باوجود یہ منصوبہ فعال نہ ہو سکا۔
پلانٹ کو باضابطہ طور پر ساہیوال میونسپل کارپوریشن کے حوالے کیا گیا تھا، مگر بعد ازاں اسے ساہیوال سالڈ ویسٹ کمپنی کے سپرد کر دیا گیا۔ اس کے باوجود پلانٹ غیر فعال رہا اور ٹھیکیدار کمپنی ایم/ایس افضل سیال اینڈ کمپنی گزشتہ چھ ماہ سے اس جگہ کو کچرا پھینکنے کے لیے استعمال کرتی رہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپنی نے اب ویو ہوٹل کے قریب نئی ڈمپنگ سائٹ منتقل ہونے کے باوجود پلانٹ کے احاطے سے کچرا صاف نہیں کیا، جس سے ماحولیاتی اور صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسی ٹھیکیدار پر دو ماہ قبل شہر میں بغیر ڈھکے کچرا منتقل کرنے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔
اربن یونٹ کے حکام کے مطابق پلانٹ دسمبر 2024 میں میونسپل کارپوریشن کے حوالے کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں 2025 کے وسط میں سالڈ ویسٹ کمپنی کے سپرد کر دیا گیا کیونکہ میونسپل ادارہ اسے چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔
میونسپل کارپوریشن کے سی ای او شیخ اشفاق نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پلانٹ کو فعال نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے ادارے کے حوالے کیا گیا۔
حکام کے مطابق معاملہ کمپنی بورڈ کے زیر غور ہے اور جلد اسے کسی تیسرے فریق کے حوالے کرنے کا امکان ہے۔
کمشنر ڈاکٹر آصف طفیل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پلانٹ کو فعال بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ اربن یونٹ حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی تربیت کے فقدان کے باعث پلانٹ مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔