حبیب یونیورسٹی میں سلطانہ صدیقی اسکالرشپس کا اجراء
کراچی: حبیب یونیورسٹی نے ہفتے کے روز ’’سلطانہ صدیقی ڈسٹنگوئشڈ اسکالرشپس‘‘ کا آغاز کیا — جو میڈیا، ڈیزائن اور کمیونی کیشن کے شعبوں میں خواتین کے لیے نئے تعلیمی مواقع پیدا کرنے کی ایک تاریخی پیش رفت ہے۔
یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس تقریب کا عنوان ’’دی اسٹینڈرڈ — ناٹ دی ایکسیپشن‘‘ رکھا گیا، جس میں مخیر حضرات، کاروباری شخصیات، فنکاروں اور تعلیمی کمیونٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ اس موقع پر خواتین کی اعلیٰ تعلیم میں شمولیت کو نئے زاویے سے دیکھنے اور بڑھانے پر زور دیا گیا۔
تقریب کا آغاز اسسٹنٹ ڈین کرسٹی لاوڈر نے مرحوم بانی چانسلر رفیق ایم حبیب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکالرشپس پاکستان کی میڈیا آئیکون سلطانہ آپا کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کمیونی کیشن اینڈ ڈیزائن پروگرام میں خواتین ہر سطح پر نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، داخلہ لینے والی طالبات کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور فیکلٹی میں ایمی، آسکر اور پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ یافتہ اساتذہ شامل ہیں۔
ڈین لاوڈر نے کہا کہ یہ اسکالرشپ محض ایک علامتی قدم نہیں بلکہ خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں اور قیادت میں سرمایہ کاری ہے، تاکہ پاکستان میں خواتین کی آواز اور قیادت نہ صرف قائم رہے بلکہ مزید ترقی کرے۔
بعد ازاں شرکاء کو ’’عزمِ نو کے نام‘‘ کے عنوان سے ایک فلم دکھائی گئی جس میں سلطانہ صدیقی کی شاندار پیشہ ورانہ جدوجہد اور میڈیا میں ان کی راہنمائی کو اجاگر کیا گیا۔
مناہل درید، جو ہم ٹی وی کی انٹرنیشنل بزنس ڈائریکٹر اور سلطانہ صدیقی کی نواسی ہیں، نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسکالرشپ ایک ایسے میڈیا انڈسٹری کے قیام میں مددگار ثابت ہوگی جہاں خواتین کی قیادت معمول کی بات ہو، استثنا نہیں۔
تقریب کا سب سے پُراثر لمحہ وہ تھا جب سلطانہ صدیقی خود اسٹیج پر آئیں۔ انہوں نے اپنی ممنونیت کا اظہار کیا اور نوجوان خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معاشرے کے بگڑے ہوئے نظاموں کو انصاف، تخلیق اور وقار کے ساتھ ازسرِ نو تعمیر کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا، “خواتین کی کامیابی کو نایاب نہیں بلکہ معیار سمجھا جانا چاہیے۔”
تقریب کے اختتام پر صدرِ حبیب یونیورسٹی، واصف رضوی نے سلطانہ صدیقی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یادگاری شیلڈ دی اور ان کے اہلِ خانہ کو اسٹیج پر مدعو کیا۔