سوات یوتھ امن کانفرنس میں علاقے کے وسائل کے استحصال کے خاتمے کا مطالبہ
سوات: ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے امن کے لیے متحد اور مسلسل تحریک چلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور بدامنی نہ صرف خطے کے سماجی ڈھانچے کو تباہ کررہی ہے بلکہ عوام کو ان کے وسائل، ترقی اور بہتر مستقبل سے بھی محروم کررہی ہے۔
یہ مطالبہ ہفتے کے روز اولسی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ’ملاکنڈ ڈویژن کے نوجوانوں کی امن کانفرنس‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔
کانفرنس میں سوات، لوئر دیر، اپر دیر، شانگلہ، بونیر اور ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کارکنوں، طلبہ، وکلا، سماجی کارکنوں اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔
مقررین میں اپر دیر کے طارق شاہ، سلطان علی خان، غیرت یوسفزئی، اپر دیر کے حیدر جان، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے انجینئر زاہد خان، حامد خان، عزیز ایڈووکیٹ، پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے حارث باچا، شانگلہ کے شہزاد خان، فیاض ظفر، اکمل خان، عجب خان توریالے اور سوات ریڈرز سوسائٹی کے معاذ خان شامل تھے۔
مقررین نے خطے میں دہشت گردی کے مسلسل خطرے، سیاسی عدم استحکام اور وسائل کے استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نوجوانوں میں اتحاد، سیاسی شعور اور اجتماعی جدوجہد کو فروغ دینے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط اور اصولی قیادت ضروری ہے۔ عوام کو ایسے نمائندے منتخب کرنے چاہئیں جو ان کے حقوق اور مفادات کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہوں اور امن و مستقبل سے متعلق معاملات پر سمجھوتہ نہ کریں۔
مقررین نے واضح کیا کہ عوام کے حقوق اور مفادات کے معاملے پر ’کوئی سیاسی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے‘۔
انہوں نے جاری تنازع کو وسائل اور جغرافیائی سیاسی مفادات کی وسیع تر کشمکش کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وسائل کی جنگ اور بڑی طاقتوں کا کھیل ہے، جس کے نتیجے میں پشتون عوام مسلسل مشکلات کا شکار ہیں۔
کانفرنس کے شرکا نے امن کی تحریک کو پورے خیبر پختونخوا تک پھیلانے، اجتماعی کوششیں تیز کرنے اور تشدد و بدامنی کے خلاف عوامی متحرک سازی بڑھانے پر زور دیا۔
مقررین نے عسکریت پسندی اور بھتہ خوری کے باعث مقامی آبادی کو درپیش مشکلات کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک ایسا عفریت ہے جسے اجتماعی جدوجہد، سیاسی شعور اور عوامی متحرک سازی کے بغیر شکست نہیں دی جاسکتی۔
کانفرنس میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقررین نے مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید علم اور ٹیکنالوجی کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز اور مواقع کے لیے بہتر طور پر تیار ہوسکیں۔
شرکا نے علاقائی سلامتی، تعلیم، سیاسی نمائندگی، نوجوانوں کی شرکت اور خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق و وسائل کے تحفظ سمیت مختلف امور پر بھی گفتگو کی۔
کانفرنس کا اختتام ملاکنڈ ڈویژن کے نوجوانوں میں مزید اتحاد پیدا کرنے اور امن کی تحریک کو صوبے کے دیگر اضلاع تک وسعت دینے کے مطالبے کے ساتھ ہوا۔
شرکا نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے پائیدار امن، معیاری تعلیم، سیاسی شعور اور معاشی مواقع ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔