لاہور: اینٹی کرپشن نے پی ایچ اے ملتان کے افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف 17 کروڑ 20 لاکھ روپے کی کرپشن کا مقدمہ درج کر لیا

لاہور: اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) نے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (PHA) ملتان کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ اور دو دیگر سرکاری اہلکاروں سمیت متعدد نجی ٹھیکیداروں کے خلاف 17 کروڑ 20 لاکھ روپے کی مبینہ بدعنوانی پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔

مقدمہ ڈائریکٹر مارکیٹنگ حافظ اسامہ، اکاؤنٹنٹ بدر منیر اور ریکوری آفیسر پرویز اقبال کے خلاف درج کیا گیا جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرز بشریٰ امریں، تنویر حسین، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انجینئرنگ نوید احمد بھٹہ اور مختلف ٹھیکیداروں کے خلاف مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

اگست 2025 میں ڈی جی پی ایچ اے کریم بخش نے 2022، 2023 اور 2024 کے دوران کرپشن، بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات پر ان افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق چار سال میں مجموعی طور پر 17 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، جو زیادہ تر تشہیری ٹھیکوں اور دیگر لیز سے متعلق تھا۔

انکوائری میں انکشاف ہوا کہ واسا کی جانب سے ہارٹیکلچر کے لیے دیے گئے 2 کروڑ روپے نجی ٹھیکیداروں کے واجبات پر خرچ کر دیے گئے۔ مارکیٹنگ ڈائریکٹوریٹ کو موصول ہونے والے 6 کروڑ 40 لاکھ روپے کے مالی آلات (Financial Instruments) کا ریکارڈ موجود نہیں جبکہ 6 کروڑ 80 لاکھ روپے کو مختلف غیر متعلقہ آمدنی والے خانوں میں منتقل کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کیا گیا، تواریخ تبدیل کی گئیں اور سابق ڈی جی کے جعلی دستخطوں کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا۔ بعض ٹھیکیداروں کے حق میں غیر مجاز مالی ایڈجسٹمنٹ بھی کی گئیں۔

حافظ اسامہ پر فنڈز کی غیر قانونی منتقلی روکنے میں ناکامی اور جعلی ایڈجسٹمنٹ لیٹرز جاری کرنے کا الزام ہے۔ اکاؤنٹنٹ بدر منیر پر قیمتی مالی آلات کے غائب ہونے اور واسا کے چیکس نجی ٹھیکیداروں کے اکاؤنٹس میں جمع کرانے کا الزام عائد ہوا، جبکہ سائٹ انسپکٹر پرویز اقبال بھی غیر مجاز فنڈ ٹرانسفر اور ساڑھے 35 لاکھ روپے کا جعلی چالان تیار کرنے میں ملوث پائے گئے۔

انکوائری نے مجرمانہ کارروائیوں، عوامی فنڈز کی ریکوری اور فرانزک آڈٹ کی سفارش کی۔ بعدازاں ڈی جی پی ایچ اے نے یہ ریفرنس اینٹی کرپشن کو بھجوا دیا۔

ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بشارت نبی نے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی جس نے ریکارڈ، انکوائری رپورٹ اور ملزمان و سکروٹنی کمیٹی کے بیانات کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے 17 کروڑ 20 لاکھ روپے کی کرپشن کی تصدیق کرتے ہوئے حافظ اسامہ، بدر منیر اور پرویز اقبال کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی، جبکہ دیگر افسران اور ٹھیکیداروں کے کردار کی مزید تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا۔

بشارت نبی نے ڈان سے گفتگو میں بتایا کہ مقدمہ درج ہو چکا ہے اور جلد گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے دوران اینٹی کرپشن نے ملتان، خانیوال، وہاڑی اور لودھراں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 775 انکوائریز میں مقدمات درج کیے۔ مجموعی طور پر 253 سرکاری اہلکاروں اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا جبکہ 64 افراد رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ 27 اشتہاری ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔

ان کے مطابق 264 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کرائے گئے، 267 انکوائریز باہمی مفاہمت سے حل ہوئیں اور 67 کیسز متعلقہ محکموں کو منتقل کیے گئے۔ کارروائیاں صحت، پولیس، ریونیو، سب رجسٹرار، آبپاشی، بلدیہ، پی ایچ اے، ہاؤسنگ، ہائی ویز، تعلیم، ایکسائز، لیبر، ایم ڈی اے، فوڈ اور ڈسٹرکٹ کونسل سمیت متعدد محکموں میں کی گئیں۔

اینٹی کرپشن نے 16 مرلے سرکاری اراضی جس کی مالیت تقریباً ایک کروڑ روپے تھی، واپس دلائی جبکہ دیگر کیسز میں 14 کروڑ 84 لاکھ روپے کی ریکوری بھی کی گئی۔

متعلقہ خبریں