سوات ضلع دو حصوں میں تقسیم، بر سوات نیا ضلع قرار
سوات: خیبرپختونخوا حکومت نے سوات ضلع کو دو علیحدہ انتظامی اکائیوں — سوات اور بر سوات — میں باضابطہ طور پر تقسیم کر دیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ اس حوالے سے منگل کے روز باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ 19 دسمبر 2025 کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کی منظوری کے تحت کیا گیا ہے اور اسے خیبرپختونخوا لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعات 5 اور 6 کے تحت نافذ کیا گیا ہے۔ نئے قائم ہونے والے ضلع بر سوات کا صدر مقام مٹہ ہوگا، جبکہ ضلع سوات کا صدر مقام بدستور بابوزئی تحصیل کے علاقے گُلکدہ میں قائم رہے گا۔
اعلامیے کے مطابق مٹہ، بحرین اور خوازہ خیلہ کی تحصیلیں ضلع بار سوات میں شامل ہوں گی، جبکہ بابوزئی، کبل، چارباغ اور بریکوٹ تحصیلیں ضلع سوات کا حصہ ہوں گی۔ اس فیصلے پر سوات کے مختلف علاقوں میں ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔
خوازہ خیلہ کے رہائشیوں کی بڑی تعداد نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دیرینہ مطالبہ قرار دیا۔ مقامی تاجر عبد الولی کا کہنا تھا کہ بالائی سوات کے عوام کو دہائیوں سے انتظامی اور عدالتی امور کے لیے مینگورہ اور سیدو شریف جانا پڑتا تھا، جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوتا تھا۔ ان کے مطابق نئے ضلع کے قیام سے سرکاری دفاتر، عدالتیں اور دیگر ادارے قریب آ جائیں گے۔
اسی طرح مٹہ کے رہائشیوں نے بھی فیصلے پر امید کا اظہار کیا۔ سماجی کارکن شہزاد خان نے کہا کہ بار سوات کے لیے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے، ضلع ہیڈکوارٹر کے قیام سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، امن و امان بہتر ہوگا اور عوامی مسائل کے فوری حل میں مدد ملے گی۔
تاہم بعض حلقوں نے اس فیصلے پر تنقید بھی کی ہے۔ مینگورہ کے رہائشی ہدایت اللہ کا کہنا تھا کہ صرف انتظامی تقسیم سے سوات کے اصل مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بونیر اور شانگلہ کو ماضی میں الگ اضلاع بنانے کے باوجود آبادی کے دباؤ، ٹریفک مسائل اور سہولیات کی کمی جیسے مسائل برقرار ہیں۔
ایک اور شہری سعید احمد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلے سے سوات اور بار سوات کے عوام کے درمیان سماجی تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق انتظامی تقسیم کے بجائے بہتر منصوبہ بندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت ہے۔ بعض افراد نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ نئے ضلع کے قیام سے مالی بوجھ میں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب سرکاری حکام کا مؤقف ہے کہ سوات کی تقسیم سے انتظامی دباؤ کم ہوگا، عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنے گی اور دونوں اضلاع میں زیادہ مؤثر اور مرکوز طرزِ حکمرانی ممکن ہو سکے گی۔
نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کے لیے اسے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کو ارسال کر دیا گیا ہے۔