چشتیاں: محنت کش کی جیب پہ ڈاکہ

موضع شہرفریدکےپٹواری کی مبینہ رشوت خوری،غریب شہری سےلاکھوں بٹورلیے

حکومتی اصلاحات اور عوام کو انکی دہلیز پر حکومتی خدمات کی فراہمی کے تمام تر خوش نما دعووٗں کے با وجود، شہر فرید کے رہائشی محمد نذر ولد محمد حنیف قوم اعوان کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی ایک بار پھر محکمہ مال میں جاری بدعنوانی کو بے نقاب کرتی نظر آتی ہے۔ محمد نذر، جو پیشے کے اعتبار سے راج مستری ہے اور محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، نے برسوں کی محنت کے بعد ایک ایک آنہ جوڑ کر ایک کنال چار مرلہ زمین خریدی، مگر زمین کے انتقال اور رجسٹری کے عمل میں مبینہ طور پر اسے سنگین استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق، متعلقہ پٹواری محمد زاہد نے زمین کے انتقال کے لیے پہلے 70 ہزار روپے رشوت طلب کی، جبکہ رجسٹری کے وقت مبینہ طور پر 2 لاکھ 40 ہزار روپے وصول کیے گئے۔ متاثرہ شہری کے مطابق، اس تمام قانونی عمل کا سرکاری خرچ محض چند ہزار روپے بنتا تھا، مگر پٹواری نے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک غریب مزدور سے اس کی زندگی بھر کی جمع پونجی چھین لی۔

محمد نذر کا کہنا ہے کہ اس نے یہ رقم قرض اور اپنی محدود جمع پونجی سے ادا کی، مگر آج وہ شدید ذہنی دباؤ اور مالی مشکلات کا شکار ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف ایک محنت کش خاندان کو معاشی طور پر توڑ دیا بلکہ حکومتی دعووٗں پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ متاثرہ شہری نے اس ناانصافی کے خلاف اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں کو باضابطہ درخواست دی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس سے ناجائز طور پر وصول کی گئی رقم واپس دلوائی جائے اور پٹواری محمد زاہد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں نے پٹواری کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے اور جواب طلب کیا ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ محض شوکاز نوٹس کافی نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ مال کے اعلیٰ حکام اس معاملے میں فوری، شفاف اور مثالی کارروائی کریں تاکہ نہ صرف محمد نذر کو اس کی محنت کی کمائی واپس مل سکے بلکہ ایسے پٹواریوں کو بھی واضح پیغام جائے جو غریب اور انپڑھ عوام کو آسان شکار سمجھتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اراضی سنٹر جیسے حکومتی اصلاحات کے فینسی منصوبوں پر اربوں روپے کی کثیر رقم خرچ کرنے کے بعد بھی اگر ایک عام شہری اپنی زمین کے قانونی حق کے لیے بھی حکومتی اہلکاروں کو رشوت دینے پر مجبور ہے، تو پھر انصاف کی امید کس سے رکھی جائے؟ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور محکمہ مال کے ذمہ داران پر لازم ہے کہ وہ اس واقعے کو محض ایک فرد کی شکایت نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنے نظام کی خرابی کی علامت مان کر فوری اصلاحی اقدامات کریں۔ ورنہ ایسے واقعات عوام کے حکومتی اداروں پر اعتماد کو مزید مجروح کرتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں