پنجاب میں سیوریج و نکاسیٔ آب کے بڑے منصوبوں کا آغاز

پنجاب ڈویلپمنٹ پلان کے تحت 200 ارب روپے مختص، 15 اضلاع میں کام شروع

لاہور: حکومتِ پنجاب نے صوبے کے مختلف اضلاع میں سیوریج اور نکاسیٔ آب کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے پنجاب ڈویلپمنٹ پلان کے تحت تقریباً 200 ارب روپے کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ تفصیلات پنجاب واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی (پی واسا) کی مرتب کردہ رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے ترقیاتی پروگرام کے پہلے مرحلے میں ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تحت شہری سہولیات کی بہتری اور مون سون کے دوران شہری سیلاب کے خطرات میں کمی کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جھنگ، ڈیرہ غازی خان، گجرات، حافظ آباد، جہلم، اوکاڑہ اور سرگودھا سمیت کئی اضلاع میں عملی کام کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں بھی جلد کام شروع کیے جانے کی توقع ہے۔

منصوبے کے تحت تقریباً ایک ہزار 610 کلومیٹر نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ 741 کلومیٹر پرانے اور خستہ حال نیٹ ورک کی بحالی کی جائے گی، جو تیزی سے بڑھتی شہری آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو چکے تھے۔ اس کے علاوہ بارشی پانی کے مؤثر انتظام کے لیے 92 کلومیٹر مین ڈرینز اور 108 کلومیٹر سے زائد سڑک کنارے نکاسیٔ آب کی نالیاں تعمیر کی جائیں گی تاکہ شدید بارشوں کے دوران پانی کی روانی بہتر ہو اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مسائل کم ہوں۔

ہاؤسنگ سیکرٹری نورالامین مینگل نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے منصوبوں میں پیچیدہ انجینئرنگ شامل ہوتی ہے، جس میں ڈیزائن، مٹی کی جانچ، لیولنگ، کنیکٹیویٹی اور گریویٹی فلو جیسے عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گھروں سے نکلنے والے سیوریج کو مختلف لیٹرل، سیکنڈری اور ٹرنک لائنوں کے ذریعے 40 سے 50 فٹ گہرے ڈسپوزل اسٹیشنز تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے اسے پمپ کر کے مرکزی نالوں کے ذریعے آبی ذخائر تک منتقل کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 15 اضلاع میں 27 نئے ڈسپوزل اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ 59 موجودہ اسٹیشنز کو مکمل فعال حالت میں بحال کیا جائے گا۔ بعض مقامات پر بڑے اسٹوریج ٹینکس بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ مون سون کے عروج کے دوران اضافی بارشی پانی کو محفوظ کر کے نکاسیٔ آب کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سیوریج کی تنصیب کے بعد سڑکوں اور گلیوں کی ازسرنو تعمیر کے لیے پائیدار تعمیراتی ماڈلز اپنائے جا رہے ہیں تاکہ ڈھانچے زیادہ دیرپا ہوں اور مستقبل میں مرمت کے اخراجات کم ہوں۔ نورالامین مینگل کے مطابق یہ منصوبے محض تعمیراتی سرگرمی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے دباؤ سے شہروں کے تحفظ اور آئندہ کئی دہائیوں تک مستحکم بلدیاتی خدمات کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہیں۔

یاد رہے کہ پنجاب کے بڑے شہروں، خصوصاً لاہور، کو تیزی سے بڑھتی آبادی، غیر منصوبہ بند توسیع اور بدلتے موسمی رجحانات کے باعث سیوریج اور نکاسیٔ آب کے شدید مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق نکاسیٔ آب کے نظام میں سرمایہ کاری نہ صرف صحتِ عامہ کے لیے ضروری ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ بار بار آنے والی اربن فلڈنگ کاروباری سرگرمیوں اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اضلاع کے درمیان متوازن ترقی اس کی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے اور انفراسٹرکچر کی مساوی توسیع سے پنجاب بھر میں محفوظ اور پائیدار شہری ماحول کو فروغ ملے گا۔

متعلقہ خبریں