کراچی: گُل پلازہ آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے روبرو جمعرات کو اہم انکشافات سامنے آئے جب کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ڈائریکٹر لینڈ لیز جسٹس آغا فیصل کے سوالات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے سربراہ نے بھی اعتراف کیا کہ عمارت کی خلاف ورزیوں سے متعلق اصل ریکارڈ دستیاب نہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم یک رکنی کمیشن نے سماعت کے دوران کے ایم سی کے ڈائریکٹر لینڈ (لیز) سید عدنان حیدر زیدی سے پلاٹ کی قانونی حیثیت اور لیز کی تفصیلات پر متعدد سوالات کیے، تاہم وہ خاطر خواہ معاونت نہ کر سکے۔ اس پر کمیشن نے میونسپل کمشنر، جو کے ایم سی کے اعلیٰ ترین بیوروکریٹ ہیں، کو 23 فروری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا تاکہ بیان ریکارڈ کرایا جا سکے اور متعلقہ ریکارڈ پیش کیا جائے۔
سماعت کے دوران ایس بی سی اے کے ڈی جی مظمل حسین ہالیپوتو نے بیان دیا کہ عمارت کا نقشہ 1979 میں منظور ہوا، تعمیر 1986 میں شروع ہوئی جبکہ پلاٹ کی لیز 1983 میں ختم ہو چکی تھی جس کی تجدید 1991 میں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 1998 میں نظرثانی شدہ نقشہ منظور ہوا، 2003 میں درجنوں غیر مجاز دکانیں ریگولرائز کی گئیں اور 2005 میں سیل این او سی کے لیے درخواست دی گئی حالانکہ بیشتر دکانیں فروخت ہو چکی تھیں۔ ان کے مطابق 2015 میں اضافی منزلوں کی اجازت طلب کی گئی جو مسترد کر دی گئی، جبکہ میزانین فلور کا ریکارڈ دستیاب نہیں اور عمارت میں مجموعی طور پر 18 گیٹس ہیں۔
جب کمیشن نے خلاف ورزیوں پر جاری نوٹسز اور کارروائی سے متعلق اصل ریکارڈ طلب کیا تو ڈی جی ایس بی سی اے نے تسلیم کیا کہ صرف فوٹو کاپیاں موجود ہیں اور اصل دستاویزات نہیں مل رہیں۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ تکمیل سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد عمارت کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، تاہم شکایات یا انسپکٹرز کی سفارش پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ گل پلازہ انتظامیہ کو جاری نوٹسز سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں اور صوبے بھر کی عمارتوں کی نگرانی محدود عملے کے باعث ایک مشکل کام ہے۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے سی ای او احمد علی صدیقی نے بتایا کہ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی تمام ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی، تاہم قریبی ہائیڈرنٹ متاثرہ عمارت سے 14 کلومیٹر دور تھا۔ انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ کو روزانہ چھ گھنٹے پانی فراہم کیا جاتا ہے اور فائر بریگیڈ ہیڈکوارٹر میں پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے بیان دیا کہ اطلاع ملتے ہی وہ موقع پر پہنچے اور ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کیا، جبکہ متعدد افراد آگ لگنے کے 20 سے 30 منٹ کے اندر عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بتایا کہ ابتدائی طور پر آٹھ زخمی برنس سینٹر سول اسپتال لائے گئے جنہیں علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا، جبکہ 18 اور 19 جنوری کو مجموعی طور پر 25 لاشیں لائی گئیں۔ بعد ازاں آنے والی انسانی باقیات ناقابل شناخت تھیں جن کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے۔
پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے جنرل منیجر شفیع چاچر نے بتایا کہ گرین لائن توسیعی منصوبے کے باعث ایم اے جناح روڈ جزوی طور پر بند تھی تاہم فائر ٹینڈرز کی بروقت رسائی کے لیے رکاوٹیں ہٹا دی گئی تھیں۔
گل پلازہ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے بیان دیا کہ عمارت عموماً رات ساڑھے دس سے گیارہ بجے کے درمیان بند کی جاتی تھی اور مکمل بندش میں 20 سے 25 منٹ لگتے تھے۔ ان کے مطابق عمارت میں 280 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں اور 2003 میں پارکنگ بیسمنٹ سے چھت پر منتقل کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سب لیز کا ریکارڈ انتظامیہ کے پاس موجود نہیں کیونکہ انتظامیہ صرف مینٹیننس چارجز وصول کرتی اور سیکیورٹی و سی سی ٹی وی کی نگرانی کرتی ہے۔
کمیشن نے صوبائی لاء آفیسر کو ہدایت کی کہ وہ واضح کریں آیا ریسکیو 1122 صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا شہری حکومت کے۔ سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے کمیشن نے متعلقہ افسران اور گواہوں کو سوالنامے فراہم کیے اور آئندہ سماعت پر جوابات جمع کرانے کی ہدایت کی۔