سندھ میں رمضان کے دوران منافع خوری کی روک تھام کیلئے 480 افسران کو مجسٹریٹ کےاختیارات تفویض

کراچی: حکومتِ سندھ نے ماہِ رمضان کے دوران منافع خوری کی روک تھام اور انتظامی امور کو مؤثر بنانے کیلئے صوبے بھر میں 480 افسران کو مجسٹریٹ اختیارات تفویض کر دیے ہیں تاکہ وہ قیمتوں کی نگرانی کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف براہِ راست کارروائی کر سکیں۔ یہ فیصلے وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے۔

اجلاس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، کمشنرز، کے الیکٹرک، سوئی سدرن گیس کمپنی، حیسکو اور سیپکو کے نمائندگان نے شرکت کی۔ چیف سیکریٹری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیرِاعلیٰ کی منظوری سے 480 افسران کو اختیارات دیے گئے ہیں جبکہ کراچی کمشنر کے ماتحت رمضان ڈیوٹی کیلئے مزید 50 افسران تعینات کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی سرکاری قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا جن کے مطابق گائے کا گوشت ایک ہزار سے تیرہ سو روپے فی کلو، بکرے کا گوشت بائیس سو روپے فی کلو، برائلر مرغی 334 روپے فی کلو اور چینی 140 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔ وزیرِاعلیٰ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ فوری طور پر پرائس چیکنگ مہم شروع کی جائے اور سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کیلئے صوبے بھر میں 195 شکایتی سیل قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ کراچی کی بڑی مارکیٹوں میں 49 شکایتی کیمپ اور 65 خصوصی کاؤنٹرز (بعض اضلاع میں 71 ڈپٹی کمشنر کاؤنٹرز) قائم کیے جائیں گے۔ مخصوص مقامات پر رعایتی اسٹالز بھی لگائے جائیں گے تاکہ عوام کو سستی اشیائے ضروریہ فراہم کی جا سکیں۔

وزیرِاعلیٰ نے بجلی اور گیس فراہم کرنے والے اداروں کو سحری اور افطار کے اوقات میں زیرو لوڈشیڈنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی جبکہ پولیس کو امن و امان اور ٹریفک مینجمنٹ بہتر بنانے کا ٹاسک دیا گیا، خاص طور پر سہ پہر تین بجے سے افطار تک اور رمضان کے آخری عشرے میں رات کے اوقات میں۔ کراچی کے میئر کو پانی کی فراہمی اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو صفائی کے انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔

حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز کے کمشنرز نے بھی اپنے اپنے علاقوں میں رمضان پلان پیش کیے۔ حیدرآباد میں 55 بڑی مارکیٹوں کیلئے نرخ نامے جاری کیے گئے اور 68 ٹیمیں فیلڈ میں تعینات کی گئیں، جبکہ سکھر اور لاڑکانہ میں آٹے کی قیمت مستحکم رکھنے اور مجموعی طور پر 51 افسران کی نگرانی میں پرائس کنٹرول نظام نافذ کرنے کی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِاعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ رمضان برکتوں کا مہینہ ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، لہٰذا کسی بھی قسم کی غفلت یا منافع خوری برداشت نہیں کی جائے گی اور صوبے کے عوام کو کسی غیر ضروری مشکل کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں