جماعت اسلامی کا سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ختم کرنے کا مطالبہ

کراچی (نمائندہ مقامی حکومت) جماعت اسلامی نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے ادارے کی گزشتہ 12 سالہ کارکردگی کو ناکام قرار دے دیا۔

ادارہ نورِ حق میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ 2014 میں صفائی کا نظام صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کے بعد شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے یہ نظام کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ٹاؤنز اور یونین کونسلز کے تحت بہتر طریقے سے چل رہا تھا، مگر اسے مرکزی کنٹرول میں لینے کے باوجود کوئی بہتری نہیں آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود صفائی کا نظام بدانتظامی اور کرپشن کا شکار ہے، جبکہ شہری بدستور کچرے اور دیگر بنیادی مسائل سے پریشان ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو تحلیل کر کے اختیارات ٹاؤن اور یوسی سطح پر منتقل کیے جائیں، اور کچرا اٹھانے کے نئے معاہدے مقامی سطح پر کیے جائیں۔

منعم ظفر خان نے ادارے کی 12 سالہ کارکردگی کا فرانزک آڈٹ کرانے اور میونسپل یوٹیلٹی چارجز اینڈ ٹیکسز (MUCT) کی مد میں جمع ہونے والی رقم کی تفصیلات بھی منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کو اس کے وسائل، اداروں اور بنیادی سہولیات سے محروم کر دیا ہے، جس کے باعث شہر کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور شہری پانی، ٹرانسپورٹ، سڑکوں اور صفائی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے آئین کے آرٹیکل 140-A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل بااختیار بلدیاتی نظام میں ہے، جہاں مقامی حکومتوں کو مکمل انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہوں۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل سیف الدین ایڈووکیٹ نے بھی صفائی کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ بہتری نہ آنے کی صورت میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں