سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اختیارات ٹاؤنز اور یوسیز کو منتقل کرنے کیلئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع
کراچی: جماعتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کے چیئرمینوں اور سٹی کونسل میں اپوزیشن لیڈر نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ایکٹ کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں شہر میں صفائی اور کچرا اٹھانے کے تمام اختیارات، فنڈز اور وسائل ٹاؤنز اور یونین کمیٹیوں کو منتقل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ صفائی، کچرا اٹھانا اور تلفی کرنا مقامی حکومتوں کی بنیادی اور لازمی ذمہ داری ہے، تاہم سندھ حکومت نے 2014 میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم کر کے مقامی حکومتوں کے اختیارات محدود کر دیے۔
درخواست میں کہا گیا کہ موجودہ نظام کے تحت بورڈ نجی کمپنیوں کے ذریعے گھر گھر سے کچرا اٹھانے، سڑکوں کی صفائی اور کچرے کی منتقلی کا کام کروا رہا ہے، لیکن یونین کمیٹیوں اور ٹاؤنز کو اس پورے عمل سے عملاً باہر کر دیا گیا ہے۔
درخواست گزاروں نے الزام لگایا کہ نجی کمپنیوں کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے جبکہ متعدد معاملات میں کام سب کنٹریکٹرز کو دے دیا جاتا ہے، جہاں غیر تربیت یافتہ مزدوروں، خواتین، بچوں اور بزرگ افراد سے کم اجرت پر کام لیا جاتا ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت صوبائی حکومت پر لازم ہے کہ وہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی اداروں کو منتقل کرے، مگر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ذریعے ایک بنیادی بلدیاتی ذمہ داری صوبائی سطح پر منتقل کر دی گئی ہے جو آئین کی روح کے خلاف ہے۔
درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کے 2022 کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جس میں قرار دیا گیا تھا کہ صوبائی حکومت ایسے منصوبے یا اختیارات اپنے پاس نہیں رکھ سکتی جو مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہوں۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ ناقص صفائی نظام کے باعث شہر میں کچرے کے ڈھیر، بدبو، فضائی آلودگی اور صحت عامہ کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ٹرانسفر اسٹیشنز مستقل کچرا کنڈیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ایکٹ کو آئین کے آرٹیکل 140-A سے متصادم قرار دیا جائے اور تمام اختیارات، فنڈز، مشینری اور عملہ فوری طور پر متعلقہ ٹاؤنز اور یونین کمیٹیوں کے حوالے کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حتمی قانون سازی تک شہر میں صفائی کا نظام منتخب بلدیاتی اداروں کی نگرانی میں چلایا جائے۔