ہیملٹن روڈ منصوبے پر لاپرواہی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، تحصیلدار اور واسا عملے کے خلاف مقدمہ درج
راولپنڈی: واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی (واسا) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر، تحصیلدار اور دیگر عملے کے خلاف پبلک روڈ پر خطرناک گڑھے کو محفوظ نہ کرنے، عوامی نقل و حرکت میں رکاوٹ اور لاپرواہی پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
راولپنڈی شہر کے مصروف ترین تجارتی مرکز میں واسا کی طرف سے نالیوں کی تعمیر اور ترقیاتی منصوبے شروع ہونے کے بعد سے عوامی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور کاروباری سرگرمیاں بھی درہم برہم ہیں۔ ہیملٹن روڈ پر نالی کی تعمیر کے دوران حفاظتی ضابطوں کو نظر انداز کرنے پر متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر، تحصیلدار اور وسا کے دیگر عملے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پٹواری مرزا سجاد حیدر نے پولیس میں ایف آئی آر درج کروائی جس میں کہا کہ وہ راولپنڈی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) کی ہدایت پر پیر کو ہیملٹن روڈ پر وسا کے زیر زمین نالی منصوبے کے مقام کا دورہ کیا۔ انہوں نے ایف آئی آر میں مزید کہا کہ انہوں نے دیکھا کہ منصوبے کی جگہ پر نہ تو کوئی حفاظتی اقدام کیا گیا تھا اور نہ ہی کوئی بورڈ، حفاظتی دروازہ یا ریفلیکٹر ریڈ لائن لگائی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی حفاظتی دیوار بھی نہیں لگائی گئی جس سے عوامی نقل و حرکت میں شدید مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور لوگوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔ پیر کو اس جگہ پر زمیں کھسکنے کا واقعہ بھی پیش آیا۔ پٹواری نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے گاڑیوں اور عوامی املاک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مرزا سجاد حیدر نے کہا کہ واسا کے متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر، تحصیلدار حیات علی، رضا اور دیگر عملے کے خلاف قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ ان کی شکایت پر عوام اور مزدوروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے اور مبینہ لاپرواہی کے الزام میں پٹواری سجاد حیدر کی شکایت پر سیکشن 283/290 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی کیونکہ دونوں دفعات قابل ضمانت جرائم ہیں۔ راہگیروں، مزدوروں اور کاروباری برادری کو مصروف ترین ہیملٹن روڈ کو عبور کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ کھدائی اور غیر منصوبہ بند کام کے باعث جانوں کے نقصان کا خدشہ ہے۔ کھدائی کے دوران زمیں کھسکنے کے واقعات بھی پیش آئے تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔