خیبرپختونخوا میں مزید سرکاری ہسپتال نجی اداروں کے حوالے، صحت کی سہولیات بہتر بنانے کا دعویٰ
پشاور (نمائندہ مقامی حکومت) صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے چار سال کے طویل تعطل کے بعد کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری ہسپتالوں کو غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے حوالے کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
ہفتے کے روز خیبرپختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن نے تین مختلف نجی اداروں کے ساتھ پانچ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ہیلتھ فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر خضر حیات نے "ڈان” کو بتایا کہ یہ پانچ ہسپتال ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ، مہمند کے مامد گٹ، جنوبی وزیرستان کے ملا خان سرائے، اورکزئی کے اپر گلجو اور کرم کے علاقے ڈوگر میں واقع ہیں۔ ان کے مطابق اب تک صوبے بھر میں 24 سرکاری ہسپتال این جی اوز کے سپرد کیے جا چکے ہیں۔
ڈاکٹر خضر حیات نے وضاحت کی کہ ان ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کا منصوبہ چار سال قبل تھا لیکن تکنیکی مسائل کی وجہ سے التوا کا شکار ہو گیا تھا۔ ان مسائل کے خاتمے کے بعد اب معاہدے طے پا گئے ہیں۔
کارکردگی میں بہتری کے ثبوت اور مستقبل کے منصوبے:
حکام کے مطابق اب تک نجی اداروں کے حوالے کیے گئے زیادہ تر ہسپتالوں میں مریضوں کی آمد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ نئے معاہدوں کے تحت پارٹنر ادارے ان ہسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی، آپریشن تھیٹرز، فارمیسیوں اور ایمرجنسی خدمات کی فراہمی کے پابند ہوں گے۔
صوبائی حکومت نے تسلیم کیا کہ ماضی میں پارٹنر اداروں کو بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کے مسائل تھے جس کا اثر عملے کی تنخواہوں اور مریضوں کی دیکھ بھال پر پڑتا تھا۔ تاہم اب نقدی کے بہاؤ کو ہموار کر دیا گیا ہے اور 20 دنوں کے اندر ادائیگیاں یقینی بنائی جا رہی ہیں۔
کمزور کارکردگی پر جرمانے میں اضافہ:
ادھر محکمہ صحت کی جانب سے بعض آؤٹ سورس ہسپتالوں کی ناقص کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر خضر حیات نے بتایا کہ موجودہ قوانین کے تحت خراب کارکردگی پر پارٹنر ادارے کو اس کے بجٹ کا 10 فیصد جرمانہ کیا جاتا ہے، جسے بڑھا کر سخت تر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
چترال میں آغا خان ہیلتھ سروس سے معاہدہ:
ایک علیحدہ پیش رفت میں خیبرپختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن نے چترال میں صحت کی سہولیات کی انتظامیہ آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان (AKHS-P) کے حوالے کرنے کے لیے سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گرم چشمہ اور دیہی مراکز صحت مستوج اور شاگرام کا انتظام AKHS-P سنبھالے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت مزید 34 طبی مراکز کو نجی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے تاہم پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد یہ عمل اس وقت روک دیا گیا ہے اور عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔