کے پی کے ڈی ایچ کیو اسپتالوں میں پہلی بار ماہرِ نفسیات تعینات
پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے پہلی بار صوبے کے 32 ضلعی ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتالوں میں ماہرِ نفسیات تعینات کر دیے ہیں تاکہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی بروقت تشخیص اور علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صوبہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بدامنی، شدت پسندی، قدرتی آفات اور نقل مکانی جیسے عوامل کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق متاثرہ اضلاع میں 25 سے 34 فیصد آبادی کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہے، تاہم زیادہ تر مریض تشخیص اور علاج سے محروم رہتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ خیبرپختونخوا محکمہ صحت کے تحت ڈی ایچ کیو اسپتالوں میں ذہنی صحت کے خصوصی ڈیسک قائم کیے جا رہے ہیں جہاں مریضوں کی اسکریننگ، رہنمائی اور علاج کے لیے محفوظ اور بااعتماد ماحول فراہم کیا جائے گا، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے لیے۔
اندازوں کے مطابق متاثرہ اضلاع میں 25 سے 34 فیصد آبادی کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہے
ان ڈیسک کا مقصد بنیادی مراکز صحت، کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور بڑے اسپتالوں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانا بھی ہے، جبکہ ضلعی سطح پر ذہنی امراض سے متعلق ڈیٹا جمع کر کے پالیسی سازی میں مدد فراہم کی جائے گی۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت ڈاکٹروں، نرسوں اور تکنیکی عملے کی تربیت بھی جاری ہے تاکہ ضلعی سطح پر صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے اور بڑے اسپتالوں پر بوجھ کم ہو۔
یہ اقدام حکومت کے اس وسیع منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت ڈی ایچ کیو اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، جدید طبی آلات کی فراہمی اور انسانی وسائل کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، تاکہ عوام کو اپنے اضلاع میں ہی بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔