ملیر ندی میں کچرا پھینکنے اور جلانے پر مکمل پابندی کا حکم
کراچی (نمائندہ مقامی حکومت) کچرا ملیر ندی میں پھینکنے اور جلانے پر مکمل پابندی کا حکم۔ ذمہ داری تسلیم نہ کرنا ، اداروں میں باہمی فقدان حکومت کی مکمل ناکامی ہے،سندھ ہائیکورٹ کے ریمارکس۔ شہری حقوق داؤ پر لگے ہیں ،راہ فرار اختیار کرنےنہیں دینگے،عدالت،چار ہفتوں میں چیف سیکریٹری سے واضح حکمت عملی طلب۔ تفصیلات کے مطابق ایور فورس ہاؤسنگ سوسائٹی، داد بھائی ٹاؤن اور محمود آباد کے رہائشیوں نے ایک تحفظ ماحولیات پر خصوصی کام کرنے والی غیر سرکاری فلاحی تنظیم سے مل کر 2017 میں ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ ، سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ ، کے ایم سی ، ڈی ایم سی ایسٹ ، فیصل کنٹونمنٹ بورڈ ، سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ شہر بھر کا میونسپل ، انڈسٹریل اور اسپتالوں سے نکلنے والا ہزاروں ٹن کچرا اور خطرناک صنعتی فضلہ کورنگی کاز وے ملیر ندی میں پھینکا اور جلایا جا رہا ہے۔ اس عمل سے ایئر فورس ہاؤسنگ سوسائٹی ، دادا بھائی ٹاؤن، محمود آباد ، منظور کالونی ، ڈیفنس ویو، قیوم آباد ، کراسنگ بھٹائی کالونی سمیت دیگر علاقوں شدید ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی ہے اس عمل کے نتیجے میں صحت عامہ پر بھی خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور بالخصوص مذکورہ علاقوں کے رہائشی افراد میں بچوں بوڑھوں میں سانس کی محلق بیماریاں پھیل رہی ہیں لہذا عدالت عالیہ مدعاعلیہان سے جواب طلبی کرے اور ملیر ندی میں کچرا پھینکنے اور جلانے کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عدالتی کارروائی کے دوران سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ نے اپنے جواب میں بتایا کہ ان کا عملہ علاقوں سے کچرا اٹھا کر مختص کردہ جگہوں پر پھینکتے ہیں اور کچرا جلانے کی زمہ داری تھرڈ پارٹی پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔فیصل کنٹونمنٹ بورڈ نے موقف اختیار کیا کہ وہ بھی مخصوص جگہوں پر کچرا پھینکتے ہیں اور ملیر ندی میں کچرا پھینکنے یا جلانے سے مکمل طور پر لاتعلق ہیں۔ کے ایم سی اور ڈی ایم سی ایسٹ اپنے جواب میں کہا کہ شہر بھر سے اٹھائے جانے والا کچرا اور ہر طرح کا فضلہ ٹھکانے لگانے کا معاہدہ حکومت نے سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ سے کیا ہوا ہے لہذا یہ ہماری ذمہ داری میں نہیں ہے۔ کے ایم سی نے عدالت عالیہ کو مزید بتایا کہ ملیر ندی اور اس کے کناروں کی تمام جملہ امور کی نگرانی محکمہ آبپاشی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب محکمہ آبپاشی نے اپنے جواب میں عدالت کو بتایا کہ ملیر ندی میں کچرا پھینکنے اور ماحولیاتی آلودگی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہماری ذمہ داری ملیر ندی میں پانی کے بہاؤ کی نگرانی کرنا ہے۔ عدالت عالیہ کے روبرو سیپا نے اپنے جواب میں یہ دعویٰ کیا کہ ذمہ داروں کے خلاف انہوں نے ماحولیاتی ٹریبونل میں پہلے سے ہی قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔