پنجاب کے سرکاری اسپتال میں مبینہ غفلت سے بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کا انکشاف:بی بی سی کی رپورٹ

پنجاب کے شہر تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین طبی غفلت اور غیر محفوظ طریقۂ علاج کا انکشاف ہوا ہے، جس سے بچوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں بچوں میں ایچ آئی وی کے متعدد کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے تحقیقات شروع کیں، جب کہ مقامی نجی ڈاکٹروں نے شبہ ظاہر کیا کہ متاثرہ بچوں کا علاج اسی سرکاری اسپتال میں ہوا تھا اور غیر محفوظ انجیکشنز اس کی ممکنہ وجہ بنے۔ والدین نے الزام لگایا کہ آلودہ سرنجیں دوبارہ استعمال کی جا رہی تھیں۔

صوبائی محکمہ صحت نے 106 بچوں کے متاثر ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو معطل کیا، تاہم بعد ازاں خفیہ تحقیقات میں سامنے آیا کہ صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔

تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں بنیادی طبی اصولوں کی خلاف ورزی جاری رہی، جہاں مریضوں کو کپڑوں کے اوپر سے انجیکشن لگانے، استعمال شدہ سرنجوں کو دوبارہ استعمال کرنے اور غیر تربیت یافتہ افراد کے ذریعے بچوں کو انجیکشن لگانے جیسے خطرناک اقدامات دیکھے گئے۔

مزید یہ کہ طبی فضلہ بغیر حفاظتی اقدامات کے سنبھالا جا رہا تھا، جبکہ عملے کی کمی اور ادویات کی قلت کے باعث بعض اوقات ایک ہی دوا مختلف مریضوں میں استعمال کی گئی۔ بعض خاندانوں کو اپنی جیب سے ادویات خریدنے کا بھی کہا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران کم از کم 331 بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے، جبکہ متاثرہ بچوں کے والدین میں یہ شرح نہایت کم تھی، جس سے اسپتال میں انفیکشن پھیلنے کے خدشات مزید مضبوط ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کی غفلت خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کا بڑا سبب بن سکتی ہے۔ دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حفاظتی اقدامات پر عمل کیا جا رہا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک اسپتال کو اس وبا کا حتمی ذریعہ ثابت کرنے کے لیے مکمل شواہد موجود نہیں۔

یہ معاملہ نہ صرف صحت کے نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات اور سماجی مسائل کو بھی سامنے لاتا ہے، جہاں کئی بچے اس موذی مرض کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ دیگر مسلسل علاج پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ خبریں