ماہرین کا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مسلسل شجرکاری مہم تیز کرنے پر زور
اسلام آباد: ماہرینِ ماحولیات، سائنس دانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مقررین نے موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں مسلسل اور مؤثر شجرکاری مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ مطالبہ رائزنگ پاکستان فورم کے زیر اہتمام ویمن ویلفیئر اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر اسلام آباد میں منعقدہ شجرکاری تقریب کے دوران کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماہر ارضیات اور سائنس دان ڈاکٹر عادل نذیر نے کہا کہ جنگلات کی تیزی سے کٹائی کے باعث ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ہنگامی بنیادوں پر شجرکاری مہم شروع کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جغرافیائی اور موسمیاتی نظام میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جبکہ مون سون کے پیٹرن میں بھی خطرناک تبدیلی آ چکی ہے، جس کے باعث جنگلات کی بحالی وقت کی اہم ضرورت بن گئی ہے۔
پاکستان محکمہ موسمیات (PMD) کی نمائندہ نے کہا کہ جنگلات کی کمی نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید شدید کر دیا ہے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحول کے تحفظ میں فعال کردار ادا کریں۔
پاکستان ایگریکلچرل کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر غلام علی نے پھلدار درختوں اور زرعی پودوں کی شجرکاری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف غذائی تحفظ بہتر ہوگا بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔
مکمل پاکستان پارٹی کے چیئرمین متین ہاشمی نے شجرکاری کے ساتھ ماحول دوست صنعتوں کے فروغ پر بھی زور دیا تاکہ زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جا سکے اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
رائزنگ پاکستان فورم کی صدر رخسانہ تسنیم نے نوجوانوں کو ملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ نہ صرف درخت لگائیں بلکہ ان کی حفاظت اور نگہداشت کی ذمہ داری بھی نبھائیں۔
تقریب کے دوران طلبہ میں کچنار، امرود، چائنا ٹری سمیت تقریباً 200 پودے تقسیم کیے گئے جبکہ مہمانوں نے بھی شجرکاری میں حصہ لیا۔
دریں اثنا پلانٹ فار پاکستان اور امل فاؤنڈیشن نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے تعاون سے اسلام آباد کے سیکٹر جی-14/4 میں ایک اور شجرکاری مہم کا انعقاد کیا۔
اس مہم کے دوران اسلام آباد کے مقامی ماحول سے مطابقت رکھنے والے 500 مقامی درخت لگائے گئے، جن میں بوہڑ، پیپل، پلکھن اور بکائن شامل ہیں۔
منتظمین کے مطابق ان اقسام کا انتخاب ان کے ماحولیاتی فوائد، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور مقامی آب و ہوا سے مطابقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
"آئیے بہتر مستقبل کے لیے مل کر کام کریں” کے عنوان سے منعقدہ اس مہم کا مقصد شہریوں، اداروں اور مقامی برادریوں میں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے مشترکہ ذمہ داری کا شعور اجاگر کرنا تھا۔
پلانٹ فار پاکستان اور امل فاؤنڈیشن کے نمائندوں نے کہا کہ آج لگایا جانے والا ہر درخت صاف ہوا، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پاکستان کے ایک صحت مند اور سرسبز مستقبل میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے، اور عوام سے شجرکاری مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔