پانی کے قدرتی نظام کی بحالی، موسمیاتی لچک مضبوط بنانے کے لیے نئی مہم
اسلام آباد: پاکستان میں سیلاب، خشک سالی اور پانی کی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر قدرتی آبی نظام کی بحالی کو موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جارہا ہے۔
اسی سلسلے میں خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں برزوالی میں بدری تالاب کی بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ’ری چارج پاکستان‘ کے تحت شروع کیا گیا ہے، جو 72.9 ملین ڈالر مالیت کا سات سالہ موسمیاتی موافقت کا منصوبہ ہے اور اسے گرین کلائمیٹ فنڈ (GCF)، کوکا کولا فاؤنڈیشن اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) کی معاونت حاصل ہے۔
ری چارج پاکستان پر WWF پاکستان، وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری اور وزارت آبی وسائل کے تحت وفاقی فلڈ کمیشن کے اشتراک سے عملدرآمد کررہا ہے۔
منصوبے کا مقصد خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں قدرتی بنیادوں پر حل (Nature-based Solutions) کے ذریعے سیلاب اور خشک سالی کے خطرات کم کرنا، متاثرہ ماحولیاتی نظام بحال کرنا، زیر زمین پانی کی ری چارجنگ بہتر بنانا اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں مقامی آبادیوں کی لچک بڑھانا ہے۔
بدری تالاب کی بحالی منصوبے کے تحت ماحولیاتی نظام پر مبنی موافقت کا ایک اہم اقدام ہے، جس کا مقصد موسمی میٹھے پانی کے نظام کو بحال، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اور اردگرد کی آبادیوں کے لیے پانی کے تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔
بدری تالاب ماضی میں مقامی آبادی، مویشیوں اور حیاتیاتی تنوع کے لیے اہم آبی ذریعہ رہا ہے، تاہم تلچھٹ جمع ہونے، قدرتی آبی گزرگاہوں کے بند ہونے اور پشتوں کے کٹاؤ کے باعث اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور ماحولیاتی افادیت متاثر ہوئی ہے۔
WWF پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نگی خان نے قدرتی بنیادوں پر حل میں سرمایہ کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیلاب اور خشک سالی بدلتے ہوئے موسم کی علامات ہیں، جو عوام، ماحولیاتی نظام اور آبی وسائل پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کا ایک حصہ قدرت کے اپنے پانی کو جذب، ذخیرہ اور منظم کرنے کے نظام کو بحال کرنے میں مضمر ہے۔ ان کے مطابق تالابوں سمیت ماحولیاتی نظام میں سرمایہ کاری طویل مدتی موسمیاتی لچک میں سرمایہ کاری ہے۔
ری چارج پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر محمد فواد حیات نے بتایا کہ بدری تالاب منصوبے کے تحت عملی مرحلے میں داخل ہونے والا قدرتی بنیادوں پر حل کا ایک اہم منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ماہ کے دوران قدرتی آبی گزرگاہوں کے 415 میٹر حصے کو بحال کیا جائے گا، ایک ہیکٹر رقبے پر پھیلے تالاب سے تلچھٹ نکالی جائے گی اور 211 میٹر طویل پشتوں کو مضبوط کیا جائے گا۔
ان اقدامات کے نتیجے میں تالاب کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 20 ہزار مکعب میٹر اضافہ ہوگا، جبکہ اندازاً 2,957 گھرانوں کے لیے پانی کے تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
کوکا کولا فاؤنڈیشن کے صدر کارلوس پگوآگا نے کہا کہ آبی علاقوں میں موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے مضبوط تعاون اور طویل مدتی سرمایہ کاری ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن کو ری چارج پاکستان کی منصوبہ بندی سے عملی اقدامات کی جانب پیش رفت میں معاونت پر فخر ہے، جہاں قدرتی بنیادوں پر ایسے عملی حل متعارف کرائے جارہے ہیں جن کا مقصد پانی کے تحفظ کو بہتر بنانا اور آنے والی نسلوں کے لیے مقامی آبادیوں کو مضبوط بنانا ہے۔
گرین کلائمیٹ فنڈ کے ایشیا اور بحرالکاہل خطے کے ڈائریکٹر ہیمنت منڈل نے کہا کہ بدری تالاب کی بحالی کا کام ری چارج پاکستان منصوبے کے تحت موسمیاتی مالی معاونت کو عملی اور قابلِ مشاہدہ نتائج میں تبدیل کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ روایتی انفرااسٹرکچر کے ساتھ قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی سے یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ قدرتی بنیادوں پر حل انسانوں اور ماحول دونوں کے لیے دیرپا فوائد فراہم کرسکتے ہیں۔
بدری تالاب کی بحالی کا کام 2026 کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ یہ ری چارج پاکستان کے تحت قدرتی بنیادوں پر حل کے لیے منصوبہ بندی کی گئی متعدد مداخلتوں میں سے پہلا منصوبہ ہے۔