سندھ کی پہلی صنفی مساوات رپورٹ جاری، تعلیم اور روزگار میں نمایاں خلا کی نشاندہی
خواتین کی خواندگی 47 فیصد، دیہی خواتین میں شرح صرف 27.52 فیصد؛ 40 لاکھ سے زائد لڑکیاں اسکول سے باہر
کراچی: سندھ حکومت نے صوبے میں صنفی مساوات کی صورتحال کا جائزہ لینے والی اپنی پہلی جینڈر پیریٹی رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں زچگی کی صحت، خواتین کے روزگار اور سیاسی شرکت سمیت بعض شعبوں میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ تعلیم، ملازمت، ڈیجیٹل رسائی، فیصلہ سازی اور اداروں میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے مستقل صنفی خلا کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں انسانی حقوق کے معاون خصوصی راجویر سنگھ سودھو نے پیش کی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ سندھ میں صحت، تعلیم، انصاف، طرز حکمرانی، معاشی شرکت اور آبادی سمیت مختلف شعبوں میں صنفی عدم مساوات اور پیش رفت کا پہلا جامع صوبائی جائزہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ میں خواتین کی خواندگی کی شرح 47 فیصد جبکہ مردوں کی 68 فیصد ہے۔ دیہی خواتین میں خواندگی صرف 27.52 فیصد ہے، جبکہ پانچ سے 16 سال کی عمر کی 40 لاکھ 80 ہزار سے زائد لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں۔
صحت کے شعبے میں زچگی کی شرح اموات ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 314 سے کم ہوکر 224 ہوگئی ہے۔ خواتین کی تعداد میں روزگار بھی 24 لاکھ 80 ہزار سے بڑھ کر 33 لاکھ 20 ہزار ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس میں خواتین کی نمائندگی صرف 4.34 فیصد، پراسیکیوشن میں 18.3 فیصد اور عدلیہ میں 13.7 فیصد ہے، جبکہ 2024 میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3,085 کیسز رپورٹ ہوئے۔
خواتین کی سیاسی شرکت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن ایک کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ عام انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین امیدواروں کی تعداد 2018 میں 23 سے بڑھ کر 2024 میں 53 ہوگئی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے رپورٹ کو شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے محکموں کو تعلیم، صحت، معاشی مواقع اور سیاسی و ادارہ جاتی نمائندگی میں خواتین کی رسائی بہتر بنانے کے لیے ہدفی اصلاحات کی ہدایت کی۔
رپورٹ پیش کرتے ہوئے راجویر سنگھ سودھو نے اسے سندھ کے انسانی حقوق کے فریم ورک میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق رپورٹ میں مختلف شعبوں کے صنفی اشاریوں کو ایک جامع تجزیاتی فریم ورک میں یکجا کیا گیا ہے، جس سے پالیسی سازوں کو خلا کی نشاندہی، پیش رفت کی نگرانی اور ہدفی اقدامات مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔