مظفرآباد: ناقص اور مضرِ صحت خوراک کے خلاف کریک ڈاؤن

مظفرآباد: سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے فل کورٹ فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور فوڈ اتھارٹی نے دارالحکومت مظفرآباد میں ناقص اور مضرِ صحت خوراک کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جس کے دوران متعدد دکانیں اور ایک بڑا گودام سیل جبکہ غیر قانونی طور پر گوشت منتقل کرنے والی ایک گاڑی ضبط کر لی گئی۔

میونسپل کارپوریشن مظفرآباد کے مجسٹریٹ سردار عمران خان نے ویٹرنری افسران اور فیلڈ اسٹاف کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے، جن کے نتیجے میں چار دکانوں اور ایک بڑے گودام کو سیل کیا گیا۔

چھاپوں کے دوران ویٹرنری ٹیموں نے گوشت اور فریزڈ فوڈ اشیا کی صفائی، درجۂ حرارت، لیبلنگ اور قانونی تقاضوں کے مطابق جانچ کی۔ حکام کے مطابق معائنے کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ مردہ گائے اور بھینس کا گوشت گائے کے گوشت کے نام پر فروخت کیا جا رہا تھا، جبکہ معروف فریزڈ فوڈ برانڈز کی جعلی پیکنگ بھی استعمال کی جا رہی تھی، جو سپریم کورٹ کے احکامات اور فوڈ سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

فل کورٹ فیصلے کے تحت ویٹرنری ڈاکٹروں اور میٹ انسپکٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ضلع اور تحصیل کی سطح پر روزانہ کی بنیاد پر مذبح خانوں، دکانوں، مارکیٹوں اور گوشت و فریزڈ فوڈ کی ترسیل کے دوران معائنہ کریں۔

مجسٹریٹ سردار عمران خان نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے مطابق ضبط کی گئی اشیا کو ناقص اور مضرِ صحت قرار دے کر متعلقہ مقامات سیل کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فریزڈ فوڈ اشیا جو منفی 19 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجۂ حرارت پر پائی جائیں، ضبط اور تلف کرنے کی مجاز ہوں گی، جبکہ ہر کارروائی کی تفصیلی رپورٹ متعلقہ مجسٹریٹ کے ذریعے عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔

دریں اثنا، فوڈ اتھارٹی نے غیر قانونی طور پر گوشت منتقل کرنے والی ایک گاڑی بھی ضبط کر کے تھانہ چھتر کلاس میں مقدمہ درج کر لیا۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق چیکنگ کے دوران راولپنڈی رجسٹرڈ گاڑی سے ناقص اور غیر قانونی گوشت برآمد ہوا، جو فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2017 اور پیور فوڈ ریگولیشنز 2019 کی خلاف ورزی ہے۔

ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر مظفرآباد ابرار احمد میر نے کہا کہ اس نوعیت کے گوشت کی ترسیل پر پہلے ہی پابندی عائد ہے، اس کے باوجود قوانین کی خلاف ورزی عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی کو تحویل میں لے کر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

ابرار احمد میر نے واضح کیا کہ غیر قانونی اور ناقص خوراک کے کاروبار کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور یہ کریک ڈاؤن بلا تعطل جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عوام کو محفوظ، صاف اور معیاری دودھ اور گوشت کی فراہمی یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے اور کسی قسم کی غفلت یا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں