پیٹرول ،ڈیزل مہنگا… یا عوام کا وقار سستا؟؟
پیٹرول ،ڈیزل مہنگا… یا عوام کا وقار سستا؟؟؟؟؟تحریر ۔۔۔محمد عامر سہیل
ملک میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، اور حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ اس طوفان کو مزید شدت دے چکا ہے3اپریل رات گئےپڑول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 520روپے تک پہنچتی قیمتیں اب صرف ایک معاشی عدد نہیں رہیں بلکہ یہ عام آدمی کی زندگی پر ایک بھاری بوجھ بن چکی ہیں 4اپریل کو شائد خواب خرگوش میں سوئی ھوئی حکومت اچانک جاگ اٹھی اور وزیراعظم نے عوام سے اچانک خطاب کیااور80روپےقیمت کم کردی سوال یہ نہیں کہ پیٹرول مہنگا کیوں ہوا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس بوجھ کو اٹھانے کی سکت کس کے پاس باقی رہ گئی ہے؟؟حکومتی سطح پر کیے جانے والے ایسے فیصلے بظاہر معاشی مجبوریوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات براہِ راست عوام کی زندگیوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ ایک طرف پالیسی ساز ہیں جن کی زندگی سہولیات، مراعات اور پروٹوکول کے دائرے میں گزرتی ہے، جبکہ دوسری طرف وہ عام شہری ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اپنے اخراجات پورے کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہےاگر ہم اس صورتحال کو ایک سادہ مثال سے سمجھنے کی کوشش کریں تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ ایک استاد، جسے معاشرے میں قوم کا معمار کہا جاتا ہے، جس کے کندھوں پر نئی نسل کی تربیت کی ذمہ داری ہوتی ہے، اسے ماہانہ کنوینس الاؤنس کے طور پر محض 3000 روپے دیے جاتے ہیں۔ موجودہ پیٹرول کی قیمتوں کے تناظر میں یہ رقم چند دنوں کے سفر کے لیے بھی ناکافی ہے۔ سوال یہ ہے کہ باقی مہینے کا سفر کیسے طے ہوتا ہوگا؟ یہ وہ حقیقت ہے جو سرکاری کاغذوں میں شاید نظر نہ آئے، مگر زمینی حقائق میں پوری شدت کے ساتھ موجود ہےیہ صورتحال ایک واضح تضاد کو جنم دیتی ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، اور دوسری طرف آمدنی کا وہی محدود دائرہ۔ نتیجتاً عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہوتا ہے جو نہ تو کسی بڑے عہدے پر فائز ہے اور نہ ہی اسے اضافی سہولیات حاصل ہیں۔تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو وہ آہستہ آہستہ ایک اجتماعی عادت بن جاتے ہیں۔ یہی عادتیں پھر معاشرے میں بے حسی کو جنم دیتی ہیں، جہاں ہر نئی مشکل کو خاموشی سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہ خاموشی وقتی طور پر سکون کا باعث بن سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ معاشرتی کمزوری کا سبب بنتی ہےیہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ قومیں اچانک زوال کا شکار نہیں ہوتیں۔ یہ ایک تدریجی عمل ہوتا ہے جس میں عوام آہستہ آہستہ اپنے حقوق سے دستبردار ہوتے جاتے ہیں۔ جب سوال کرنے کی روایت ختم ہو جائے اور ناانصافی کو معمول سمجھ لیا جائے، تو پھر مسائل صرف بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں پیٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافہ بھی ایک ایسا ہی موقع ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان فیصلوں کے اثرات معاشرے کے مختلف طبقات پر کس طرح پڑ رہے ہیں آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ اضافہ صرف پیٹرول کی قیمت میں نہیں ہوا، بلکہ یہ ہماری اجتماعی برداشت، معاشی استحکام اور سماجی توازن کا بھی امتحان ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان حالات کو محض ایک معمول سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں یا پھر شعور اور ذمہ داری کے ساتھ ان پر غور کرتے ہیں کیونکہ سوال اب بھی وہی ہے: کیا ہم حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرتے رہیں گے، یا بہتری کے لیے سوچنے اور آواز اٹھانے کی روایت کو زندہ رکھیں گے؟قائرین اکرام پٹرول ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سےکسان شدید بحران کا شکارھوگئےہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں میں حالیہ اضافہ جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہےاوراسکابراہ راست بوجھ عوام اور خاص طور پر کسان طبقے پر پڑ رہا ہےاور ڈیزل کی قیمت میں اضافے نے فصلوں کی کاشت، آبپاشی، کھاد اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کئی گنا بڑھا دیے ہیں پاکستان میں زراعت ملکی معیشت کا اہم ستون ہے اور لاکھوں افراد کا روزگار اسی سے وابستہ ہے، جبکہ ٹریکٹرز اور دیگر زرعی مشینری کا انحصار ڈیزل پر ھےاگر فوری طور پر ڈیزل سستا نہ کیا گیا تو فصلوں کی پیداوار شدید متاثر ہوگی اور خوراک کا بحران پیدا ہونےکااندیشہ ھےکیونکہ ڈیزل پٹرول مہنگاہونےسےٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافےکےعلاوہ اشیائےخوردونوش اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوجانے سے مہنگائی کا طوفان مزید شدت اختیار کرگیاھے اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو اس کے اثرات نہ صرف زراعت بلکہ مجموعی معیشت پر بھی سنگین ہوں گےپٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے جہاں عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہےوہیں کسان طبقہ بھی شدید دباؤ میں آ چکا ہے حکمرانوں کو چاہیے کہ اپنے شاہانہ طرز زندگی کو تبدیل کریں اورحکومت فوری طور پر مؤثر اقدامات کرے تاکہ معاشی قتل کو روکا جا سکے اور زرعی شعبے کو تباہی سے بچایا جا سکے۔