ڈبلیو ایچ او کی پاکستان میں ملیریا کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی اپیل

اسلام آباد: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان میں ملیریا کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی کوششیں مزید تیز کریں، جبکہ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پہلی بار انسانی زندگی میں ملیریا کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنا ممکن نظر آ رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران ملیریا کے کیسز میں 2024 کے مقابلے میں 10 فیصد کمی آئی، تاہم ملک میں اب بھی تقریباً 18 لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے۔ ماہرین کے مطابق 2022 کے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے ملک مکمل طور پر اب تک بحال نہیں ہو سکا۔

ادارے نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی، عالمی سطح پر 5.4 ارب ڈالر کی فنڈنگ کمی، اور صحت کے شعبے میں امداد میں حالیہ کٹوتیوں کے باعث پیش رفت کو خطرات لاحق ہیں، جس سے صحت کے نظام، نگرانی اور مہمات متاثر ہو رہی ہیں۔

عالمی یومِ ملیریا کے موقع پر ڈبلیو ایچ او اور اس کے شراکت داروں نے “Driven to End Malaria: Now We Can. Now We Must” کے عنوان سے ایک عالمی مہم کا آغاز بھی کیا، جس کا مقصد ملیریا سے پاک مستقبل کے لیے فوری اقدامات اور فنڈنگ کو یقینی بنانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان میں تقریباً 1 کروڑ 69 لاکھ مشتبہ افراد کی اسکریننگ کی گئی جبکہ تقریباً 18 لاکھ مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا گیا۔ 2023 سے 2025 کے دوران تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ مچھر دانیاں بھی تقسیم کی گئیں تاکہ بیماری کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ملیریا زیادہ تر بلوچستان، دیہی سندھ اور خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں پایا جاتا ہے۔ جدید طبی تحقیق، نئی ویکسینز، علاج اور ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بیماری کے خاتمے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

 پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی خبردار کیا ہے کہ ملیریا ایک جان لیوا بیماری ہے جو متاثرہ مادہ اینوفلیز مچھر کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اس کی عام علامات میں بخار، سردی لگنا اور سر درد شامل ہیں، جبکہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

پی ایم اے کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ بنیادی مراکز صحت اور دیہی صحت مراکز میں ڈبلیو ایچ او کی منظور شدہ ویکسین، ادویات اور تشخیصی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ دور دراز علاقوں میں بھی مریضوں تک علاج پہنچ سکے۔

متعلقہ خبریں