کے پی میں سرکاری اسپتالوں کے این جی اوز سے معاہدے نظرثانی کے مرحلے میں

مانسہرہ: خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر خضر حیات نے کہا ہے کہ کم کارکردگی والے سرکاری اسپتالوں کے انتظام کے لیے غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے ساتھ کیے گئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لے کر انہیں اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

انہوں نے یہ بات اپر کوہستان کے علاقے داسو میں ڈی ایچ کیو اسپتال میں جرگہ میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر مقامی افراد نے صحت سے متعلق متعدد مسائل سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر خضر حیات نے کہا کہ خیبر پختونخوا ہیلتھ فاوّنڈیشن این جی اوز اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے کام کر رہی ہے، تاہم جو ادارے معاہدوں کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ داسو ڈی ایچ کیو اسپتال تقریباً 28 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا مگر طویل عرصے تک غیر فعال رہا، بعد ازاں تقریباً چار سال قبل اسے ایک نجی ادارے کے حوالے کیا گیا تاکہ اس کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔

جرگہ کے دوران شرکاء نے شکایت کی کہ معاہدے کے مطابق اسپتال میں بستروں کی تعداد 128 تک بڑھائی جانی تھی، تاہم اس وقت صرف تقریباً 30 مریض زیر علاج ہیں۔ مزید یہ کہ اسپتال میں ڈاکٹروں اور عملے کی شدید کمی ہے اور ماہر ڈاکٹرز اور سرجنز کی تقرری بھی معاہدے کے مطابق نہیں کی گئی۔

ڈاکٹر خضر حیات نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ پہلا موقع ہے کہ اعلیٰ حکام خود موقع پر آ کر عوام کے مسائل سن رہے ہیں اور ان کے حل کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام شکایات کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر مؤثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں